ترکی اتوار کو مقامی انتخابات کے بعد شام کا مسئلہ حل کرے گا: صدر ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کا ملک اتوار کو مقامی حکومتوں کے انتخابات کے بعد ’’ برسرزمین‘‘ شام کا مسئلہ حل کرے گا۔

انھوں نے ہفتے کے روز استنبول میں ایک انتخابی ریلی میں اپنی جماعت آق کے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’ انتخابات کے بعد ہم پہلا کام یہ کریں گے کہ اگر ممکن ہوا تو ہم میدان میں شام کا مسئلہ حل کریں گے ، میز پر نہیں‘‘۔

تاہم انھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی ہے۔ واضح رہے کہ ترکی کی مسلح افواج اس سے پہلے شام کے شمالی علاقے میں کرد جنگجوؤں کے خلاف دو مسلح کارروائیاں کرچکی ہیں۔اس نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی سرحد کے ساتھ خطرات ختم نہیں ہوتے تو وہ ان کے خاتمے کے لیے شام میں مزید دراندازی کر سکتا ہے ۔

ترک صدر کو اس وقت معاشی محاذ پر مختلف چیلنجز درپیش ہیں اور ڈالر کے مقابلے میں ترک لیرے کی قدر میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں افراط زر کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صدر ایردوآن نے انتخابی مہم کے دوران میں لیرہ کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے بعض اہم سنجیدہ اقدامات کیے ہیں۔انھوں نے عالمی طاقتوں کو لیرے کی قدر میں کمی کا ذمے دار قرار دیا ہے اب ملک میں افراطِ زر کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے کے لیے حکومت کے زیر اہتمام سبزیوں کے ٹھیلے اور اسٹال لگائے جارہے ہیں جہاں عام باز ار کی قیمت سے پچاس فی صد کم پر سبزیاں فروخت کی جارہی ہیں۔

معاشی اور مالیاتی تجزیہ کار فرم مونیکس یورپ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار راکو بیریخ نے اس اقدام کو ترک حکام کی جانب سے مختصر المیعاد سطح پر لیرے کو سنبھالا دینے کی کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر طویل المیعاد معاشی اقدامات نہیں کیے جاتے تو پھر سرمایہ کاروں کا ترکی میں سرمایہ کاری کے لیے اعتماد بحال نہیں ہو گا ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں