پوپ فرانسیس مراکش میں،مذہبی جنونیت کے خاتمے کی ضرورت پر زور

تمام دہشت گردوں میں مشترکہ چیز مذہب نہیں بلکہ اس سے لاعلمی ہے : مراکشی شاہ محمد ششم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عیسائیت کے رومن کیتھو لک فرقے کے سربراہ پوپ فرانسیس نے ’’ جنونیت کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا ہے‘‘۔ وہ مراکش کے دارالحکومت رباط میں ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔

پاپائے روم ہفتے کے روز دوروزہ سرکاری دورے پر رباط پہنچے ہیں۔انھوں نے مستقبل کے لیے مذہبی رہ نما اصولوں کی مناسب تیاری کی ضرورت پر زورد یا ہے۔انھوں نے ’’ضمیر کی آزادی ‘‘ اور ’’مذہبی آزادی ‘‘ کا انسانی وقار کے بنیادی حق کے طور پر دفاع کیا ہے اور مختلف عقیدوں کے پیروکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی بھائی چارے کے ساتھ مل جل کر رہیں‘‘۔

رومن کیتھو لک کے کسی روحانی پیشوا کا گذشتہ 34 سال کے بعد مراکش کا یہ پہلا دورہ ہے۔ انھوں نے اپنی آمد کے فوری بعد مراکش کے شاہ محمد ششم کے ہمراہ ائمہ اور اسلام کے مردو خواتین مبلغین کی تربیت کے لیے قائم کردہ مرکز کا دورہ کیا۔رباط میں یہ مرکز 2015ء میں قائم کیا گیا تھا۔ یہاں دوسرے افریقی ممالک اور یورپ سے تعلق رکھنے والے ائمہ کو بھی مراکشی حکام کے بہ قول اعتدال پسند اسلام کی تربیت دی جاتی ہے۔

پوپ نے اپنی تقریر میں مراکشی شاہ کی انتہاپسندی کی تمام شکلوں سے نمٹنے کے لیے مبلغین اسلام کو تربیت فراہم کرنے پر تعریف کی ہے۔اس موقع پر شاہ محمد ششم نے کہا کہ ’’مذہبی انتہا پسندی کا علم ہی کے ذریعے مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔بنیاد پرست سخت گیری کا کوئی فوجی یا مالی حل نہیں بلکہ اس کا واحد حل تعلیم ہی ہے ‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ تمام دہشت گردوں میں مشترکہ چیز مذہب نہیں بلکہ اس سے لاعلمی ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں