.

عرب قائدین گولان پر امریکی فیصلے کے خلاف یو این سلامتی کونسل میں قرارداد لائیں گے

د نیا کا کوئی اورملک امریکا کی تقلید میں گولان پراسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرنے سے گریز کرے:عرب لیگ کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب رہ نماؤں نے خبردار کیا ہے کہ وہ دنیا کا کوئی بھی اور ملک امریکا کی تقلید میں گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کی خود مختاری کو تسلیم کرنے سے گریز کرے۔

تیونسی دارالحکومت تیونس میں اتوار کو عرب لیگ کے سالانہ تیسویں سربراہ اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’’عرب قائدین گولان کی چوٹیوں پر امریکا کے فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد لائیں گے‘‘۔

حتمی اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ عرب ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد کا ایک مسودہ پیش کریں گے اور عالمی عدالتِ انصاف سے بھی امریکا کی جانب سے گولان پر اسرائیل کی خود مختاری کو تسلیم کرنے سے متعلق فیصلے کے غیرقانونی اور غلط ہونے کے بارے میں رائے حاصل کرنے کی کوشش کریں گے‘‘۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق عرب لیڈروں نے نان عرب ایران کو دعوت دی ہے کہ وہ اچھے ہمسائیگی کے اصول کی بنیاد پر عرب ممالک کے ساتھ مل جل کر کام کرے اور دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرے۔انھوں نے کہا:’’ ہم اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ عرب ممالک اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان باہمی تعاون اور اچھے ہمسائیگی کے اصول کی بنیاد پر تعلقات استوار ہوں گے‘‘۔

تیونس میں اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ بیان میں عرب لیگ کے آیندہ سربراہ اجلاس کے میزبان ملک کا نام نہیں بتایا گیا ہے۔

قبل ازیں سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ گولان کی چوٹیوں پر شام کی خود مختاری کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔انھوں نے سعودی عرب کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ وہ بیت المقدس دارالحکومت کے ساتھ غربِ اردن اور غزہ کی پٹی پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔

عرب لیگ کے اس سربراہ اجلاس میں شریک رہ نماؤں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرنے کےفیصلے پر غور کیا ہے اوران کے اس فیصلے کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اس اجلاس میں الجزائر اور سوڈان کے سربراہان ریاست یا حکومت نے شرکت نہیں کی ہے۔ان دونوں ملکوں میں حکومت مخالف احتجاجی تحریکیں چل رہی ہیں۔ان کے علاوہ شام کی نشست بھی خالی رہی ہے۔

اجلاس میں یمن میں جاری جنگ ، فلسطینی ، اسرائیل تنازع اور شام کی عرب لیگ میں رکنیت کی بحالی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیاہے۔تاہم عرب لیگ نے کہا ہے کہ ابھی تک شام کی رکنیت کی بحالی کے لیے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔عرب لیگ نے صدر بشارالاسد کی حکومت کے 2011ء کے اوائل میں پُرامن احتجاجی مظاہرین کے خلاف مسلح کریک ڈاؤن کے بعد شام کی رُکنیت معطل کردی تھی۔ تاہم حال ہی میں بعض عرب ممالک نے صدر بشارالاسد کی حکومت سے دوبارہ سلسلہ جنبانی شروع کردیا ہے اور اب شام کی عرب بلاک میں رکنیت کی بحالی کے لیے آوازیں بلند کی جارہی ہیں۔