.

الجزائری صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ اپنی آئینی مدت ختم ہونے سے قبل مستعفی ہوجائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائری صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ اپنی موجودہ آئینی مدت ختم ہونے سے قبل عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔الجزائر کے ایوان صدر نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں اس امر کی تصدیق کی ہے۔ان کی چوتھی مدتِ صدارت 28 اپریل کو ختم ہورہی ہے۔

صدارتی بیان میں کہا گیا ہے کہ’’ عبدالعزیز بوتفلیقہ منصبِ صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد بھی عبوری دور میں اہم فیصلوں میں اپنا کردار جاری رکھیں گے‘‘۔ وہ 2013ء میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے جزوی طور پر معذور ہوچکے ہیں اور گذشتہ برسوں کے دوران میں کم کم ہی عوام میں نظر آئے ہیں مگر اس کے باوجود انھوں نے اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھی ہے۔

واضح رہے کہ صدر بوتفلیقہ نے 12 مارچ کو اپنے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے بعد 18 اپریل کو ہونےوالے صدارتی انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کردیا تھا اور وہ پانچویں مدت صدارت کے لیے بہ طور امیدوار بھی دستبردار ہوگئے تھے ۔ان کے اس اعلان کے بعد وزیراعظم احمد او یحییٰ نے اپنےعہدے سے استعفا دے دیا تھا ۔ ان کی جگہ صدر نے نورالدین بدوی کو نیا وزیراعظم نامزد کرکے کابینہ تشکیل دینے کی دعوت دی تھی۔

صدر بوتفلیقہ نے ایک روز قبل ہی اتوار کو وزیراعظم نور الدین بدوی کے زیر قیادت ستائیس وزراء پر مشتمل نئی نگران کابینہ کا اعلان کیا ہے۔اس نئی کابینہ میں چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل احمد قاید صالح کو نائب وزیر دفاع کے عہدے پر برقرار رکھا گیا ہے حالانکہ انھوں نے چند روز قبل ہی ایک بیان میں عبدالعزیز بوتفلیقہ کو طبی بنیاد پر حکمرانی کے لیے ان فٹ قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا ۔ علیل الجزائری صدر نے وزیر دفاع کا عہدہ بدستور اپنے پاس رکھا ہے۔

الجزائر میں 22 فروری سے صدر بوتفلیقہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں ۔طلبہ سمیت مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے مظاہرین ان کے حالیہ اعلانات سے مطمئن نظر نہیں آتے اور وہ ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ گذشتہ جمعہ کو بھی ملک کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے صدر بوتفلیقہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور ان سے ساتھیوں سمیت اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔

بوتفلیقہ گذشتہ قریباً بیس سال سے الجزائر کے حکمراں چلے آرہے ہیں ۔وہ پہلی مرتبہ 1999ء میں صدر منتخب ہوئے تھے۔2004ء میں دوسری مرتبہ اور 2009ء میں تیسری مرتبہ 71 فی صد ووٹ لے کرصدر منتخب ہوئے تھے۔وہ 2014ء میں چوتھی مرتبہ 81.53 فی صد ووٹ لے کر پانچ سال کی مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے تھے۔