.

بریگزٹ کے حوالے سے یورپی یونین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے : سربراہ یورپی کمیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی کمیشن کے سربراہ ژان کلوڈ ینکر کا کہنا ہے کہ بریگزٹ کے معاملے میں یورپی یونین نے برطانویوں کے حوالے سے "بہت صبر" کا مظاہرہ کیا ہے تاہم یہ صبر اب "ختم" ہوتا جا رہا ہے۔

اتوار کی شام ایک اطالوی نیٹ ورک کے پروگرام میں ینکر نے کہا کہ "ہم نے اپنے برطانوی دوستوں کے ساتھ بہت صبر کا معاملہ کیا ہے مگر اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ برطانیہ آئندہ گھنٹوں یا دنوں کے دوران اس راستے کے حوالے سے اتفاق رائے تک پہنچ جائے گا جس پر آگے گامزن ہونا ہے۔ ابھی تک ہمیں یہ معلوم ہے کہ پارلیمںٹ نے کیا مسترد کیا ہے مگر ہم یہ نہیں جانتے وہ کس چیز پر متفق ہے"۔

یورپی کمیشن کے سربراہ نے نئے ریفرینڈم کے امکان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "یہ مسئلہ صرف اکیلے برطانویوں سے متعلق ہے۔ لہذا ان پر لازم ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ اس میکانزم کو پورا کرنے کے لیے وہ کونسے اقدامات کریں گے"۔

یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم تھریزا مے کو بریگزٹ معاہدے کے حوالے سے مزید مایوسیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ برطانوی ذرائع نے اتوار کے روز اس غالب گمان کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں برطانوی حکومت کے متعدد وزراء مستعفی ہو جائیں گے۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کے مطابق تھریزا مے آئندہ دنوں میں جو راستہ اپنائیں گی اس کی بنیاد پر خاتون وزیراعظم کو یورپی یونین سے نکلنے کے حامی اور مخالف سینئر وزراء کے مستعفی ہونے کا خطرہ درپیش ہے۔

اگر تھریزا مے بنا کسی اتفاق رائے کے یورپی یونین سے نکل جاتی ہیں تو یورپی یونین کے حامی کم از کم 6 وزراء مستعفی ہو جائیں گے ،،، جب کہ اگر وزیراعظم نے یورپی یونین کے ساتھ کسٹم اتحاد کو سپورٹ کیا یا یورپی یونین سے نکلنے میں تاخیر کی تو بریگزٹ کے حامی وزراء استعفا دے دیں گے۔

یاد رہے کہ برطانی پارلیمنٹ نے جمعے کے روز تیسری مرتبہ بھی بریگزٹ معاہدے کو مسترد کر دیا۔ یہ معاہدہ وزیراعظم تھریزا مے اور یورپی یونین کے بیچ طے پایا تھا۔ حالیہ پیش رفت کے نتیجے میں برطانیہ کے یورپی یونین سے "بنا معاہدے" کے نکل جانے یا اس پورے عمل کے طویل عرصے کے لیے ملتوی ہو جانے کے امکانات میں اضافہ ہو گیا ہے۔