.

سعودی سیاحوں میں کمی کے بعد ترکی کا روسیوں کو بنا پاسپورٹ داخلے کی اجازت کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں وزارت داخلہ اور وزارت ثقافت کی جانب سے جاری کردہ معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ رواں سال کے پہلے دو ماہ میں ترکی کا دورہ کرنے والے سیاحوں میں بعض ممالک کے افراد میں کی آئی ہے۔

معلومات کے مطابق سب سے زیادہ کمی سعودی عرب سے آنے والوں میں ہوئی۔ ترکی میں سرکاری اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ رواں سال سعودی سیاحوں کی تعداد محض 41 ہزار رہی۔ اس طرح وہ غیر ملکی سیاحوں کی فہرست میں 11 ویں نمبر پر رہے جب کہ گزشتہ سال ان کا چوتھا نمبر تھا۔

یہ شدید کمی ترکی کی حکومت کی جانب سے سعودی حکومت کے خلاف چلائی جانے والی سیاسی مہم کے آغاز کے ساتھ واقع ہوئی۔ مہم کا آغاز گزشتہ برس اکتوبر میں استنبول میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ہوا تھا جب کہ مملکت کے خلاف میڈیا مہم جاری ہے۔

ترکی کے وزیر داخلہ پہلے ہی یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ ترکی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والے سعودی اور جرمن شہریوں کو ان کی آمد پر ہوائی اڈے پر ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔ ترکی کے سفارت خانے کی جانب سے اس امر میں تخفیف کی کوشش کی۔

اسی طرح ترکی کے سیاحتی سیکٹر کو ایران سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں بھی بھاری خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ گزشتہ برس سیاحوں کی فہرست میں ایرانیوں کا پہلا نمبر تھا۔

ایرانیوں کی آمد میں 23 فی صد کمی کا سبب تہران پر امریکی پابندیاں ہیں جو ایرانی کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ کا باعث بنیں۔

دوسری جانب صورت حال کی درستی کے لیے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اعلان کیا ہے کہ سیاحت کے سیکٹر کے نقصان کے ازالے کے واسطے روسی سیاحوں کو بنا پاسپورٹ کے داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ ترکی میں سیاحت کا سیکٹر ملکی معیشت کے لیے ایک اہم اور مرکزی عامل شمار کیا جاتا ہے۔ سیاحوں کی فہرست میں روس کی پوزیشن رواں سال برقرار رہی اور وہ گزشتہ برس کی طرح تیسرے نمبر پر ہیں۔