امریکا نے ترکی کو ایف- 35 لڑاکا جیٹ کے آلات کی فراہمی روک دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

امریکا نے لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن کے ساختہ ایف 35 لڑاکا جیٹ کے آلات ترکی کو مہیا کرنے کا عمل روک دیا ہے ۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ایک ترجمان نے اس فیصلے کی تصدیق کی ہے۔ذرائع کے مطابق امریکا کا اپنے نیٹو اتحادی ملک کے خلاف یہ پہلا ٹھوس اقدام ہے اور اس نے یہ فیصلہ ترکی کی جانب سے روس سے میزائل دفاعی نظام ایس -400 کی خریداری پر اصرار کے ردعمل میں کیا ہے۔

امریکی حکام نے حالیہ دنوں کے دوران میں ترک حکام کو یہ باور کرادیا تھا کہ انقرہ کو ایف 35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کے سودے کے ضمن میں مزید آلات کی کھیپ نہیں بھیجے جائے گی۔امریکی ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ترکی کو لڑاکا جیٹ کی دیکھ بھال اور اڑانے سے متعلق تربیتی آلات کی کھیپ منسوخ کردی گئی ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن بالاصرار کہہ رہے ہیں کہ امریکا جو کچھ بھی کہتا رہے، ترکی روس سے ایس- 400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے سودے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس کے ردعمل میں امریکا نے اگلے روز ہی ترکی کو ایف 35 لڑاکا جیٹ مہیا کرنے کا عمل منجمد کرنے کا اعلان کر دیا تھا ۔امریکا کا کہنا ہے کہ ترکی بیک وقت جدید لڑاکا طیارے اور روس سے میزائل دفاعی نظام خرید نہیں کرسکتا ۔

ایف- 35 طیاروں کی ترکی کو فروخت یا اس کے سودے کی امریکا کی جانب سے یک طرفہ طور پر منسوخی سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان بعض امور پر کشیدگی پائی جارہی ہے ۔ترکی امریکا سے ریاست پنسلوینیا میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے علامہ فتح اللہ گولن کو حوالے کرنے کا مطالبہ کررہا ہے ۔اس کے علاوہ دونوں ممالک میں مشرقِ اوسط پالیسی ، شام میں جنگ اور ایران کے خلاف پابندیوں کے معاملے پر بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ترکی کے روس سے میزائل دفاعی نظام خرید کرنے کے فیصلے سے اس کے نیٹو اتحادی تشویش میں مبتلا ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ میزائل دفاعی نظام معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو )کے فوجی آلات سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔اس کے علاوہ نیٹو ممالک کو ترک صدر کے روسی صدر ولادی میر پوتین سے بڑھتے ہوئے تعلقات پر بھی تشویش لاحق ہے۔

امریکا اور اس کے ایف -35 لڑاکا جیٹ رکھنے والے نیٹو اتحادی ممالک کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ روسی ساختہ ایس -400 میزائل دفاعی نظام کے ذریعے اس جیٹ کا سراغ لگانے اور روکنے کا پتا چل جائے گا اور اس طرح مستقبل میں روسی ساختہ ہتھیاروں سے بچاؤ مشکل ہوجائے گا۔

ترک وزیر دفاع حلوسی عکار نے مارچ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بعض ایشوز کے باوجود ترک پائیلٹوں نے ریاست ایریزونا میں ایک فوجی اڈے پر ایف-35 کو اڑانے کے لیے اپنی تربیت جاری رکھی ہوئی ہے۔ان میں ہر ایک پر نو کروڑ ڈالرز لاگت آئے گی اور انقر ہ کو نومبر میں ان طیاروں کی ملک میں آمد کی امید ہے۔

امریکی کانگریس کے بعض ارکا ن نے حال ہی میں ترکی کو جدید لڑاکا جیٹ مہیا کرنے پر اپنی تشوش کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ترکی روس سے میزائل دفاعی نظام خرید کرتا ہے تو اس کو پھر یہ طیارے مہیا نہیں کیے جانے چاہییں۔اس ضمن میں چار سینیٹروں نے گذشتہ ہفتے ایک بل متعارف کرایا تھا ۔اس میں کہا گیا ہے کہ جب تک امریکی حکومت اس امر کا سرٹی فکیٹ جاری نہیں کر دیتی کہ ترکی ایس -400 نظام خرید نہیں کرے گا تو اس وقت تک اس کو ایف -35 لڑاکا جیٹ بھی مہیا نہ کیے جائیں۔

واضح رہے کہ امریکا ترکی کو روس سے ایس-400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری پر کئی مرتبہ خبردار کرچکا ہے ۔امریکی حکام یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ترکی کو روس سے دفاعی سازوسامان کی خریداری پر امریکی قانون کے تحت پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے اور امریکی طیارہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن کے ساختہ ایف -35 لڑاکا جیٹ کی خریداری کے سودے کے علاوہ اس کے پرزوں کی ترکی میں تیاری کے بندوبست پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز نے گذشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکا ترکی کو ایف 35 لڑاکا جیٹ کے بعض آلات کی تیاری کے عمل سے روکنے کا بھی جائزہ لے رہا ہے ۔ترکی اس طیارے کا دخانی حصہ ، اترنے کا گئیر اور کاک پِٹ کے آلات تیار کرتا ہے۔ امریکا کی جانب سے گذشتہ ہفتے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ترکی کے اس کردار کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

امریکا نے گذشتہ سال دسمبر میں ترکی کو ساڑھے تین ارب ڈالرز مالیت کا پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام رعایتی قیمت پر فروخت کرنے کی منظوری دی تھی۔ تب اس نے یہ فیصلہ ترکی کی جانب سے روس سے میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے سودے کی اطلاعات کے بعد کیا تھا اور ترکی پر اپنے غصے کا بھی اظہار کیا تھا۔

لیکن ترکی کا یہ مؤقف ہے کہ امریکا اور رو س کے ساختہ دونوں میزائل دفاعی نظام ایک دوسرے کا متبادل نہیں ہو سکتے ۔ نیز ترک صدر کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ نے پیٹریاٹ میزائل جلد مہیا کرنے پر تو مثبت ردعمل کا اظہار کیا تھا لیکن مشترکہ پیداوار اور قیمتِ خرید ( کریڈٹ) کے بارے میں کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا تھا۔ایس -400 میزائل دفاعی نظام کی ڈیل صدر طیب ایردوآن اور روسی صدر ولادی میر پوتین کے درمیان گرم جوش تعلقات کی اہم علامات میں سے ایک ہے۔دونوں صدور شام میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے بھی کوشاں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں