عالمی مارکیٹ میں 2019ء میں پہلی مرتبہ تیل کی فی بیرل قیمت 69 ڈالر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عالمی مارکیٹ میں پہلی مرتبہ تیل کی فی بیرل قیمت بلند سطح پر پہنچ گئی ہے اور منگل کے روز تیل کے سودے 69 ڈالر فی بیرل میں ہوئے ہیں جبکہ ماہرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف مزید پابندیاں عاید کی جاتی ہیں اور وینزویلا میں سیاسی بحران جار ی رہتا ہے تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

امریکا ایران کے خلاف مزید پابندیوں پر غور کررہا ہے اور اس کی پابندیوں کے شکار وینزویلا کے خام تیل کے ایک اہم ٹرمینل نے ایک مرتبہ پھر اپنی سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔ ان دونوں ممالک کی تیل کی برآمدات پر پابندیوں سے عالمی مارکیٹ میں رسد میں کمی واقع ہوئی ہے اور گذشتہ سال نومبر کے بعد پہلی مرتبہ برینٹ خام تیل کی قیمت 69.50 ڈالرز ہوگئی تھی ۔

تاہم گرینچ معیاری وقت کے مطابق آج 11:53 جی ایم ٹی بجے اس میں دو سینٹ کی کمی واقع ہوئی تھی اور فی بیرل قیمت 68.99 ڈالر ہوگئی تھی۔امریکا میں خام تیل کی قیمتوں میں 43 سینٹ کا اضافہ ہوا ہے اور وہاں بھی نومبر کے بعد پہلی مرتبہ خام تیل کی فی بیرل قیمت 62.02 ڈالر ہوگئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک تیل کی موجودہ رسد کو برقرار رکھے گی اور روس نے بھی کہا ہے کہ وہ پیداوار میں کمی کے سمجھوتے پر عمل پیرا رہے گا۔ روس کی قیادت میں غیر اوپیک اور اوپیک ممالک نے دسمبر کے اوائل میں تیل کی عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں استحکام کے لیے یکم جنوری سے پیداوار میں 12 لاکھ بیرل یومیہ کمی سے اتفاق کیا تھا۔

مارکیٹ میں گذشتہ مہینوں کے دوران میں پہلے سے کی گئی پیشین گوئی سے زیادہ تیل کی مارکیٹ میں سپلائی ہوئی تھی کیونکہ امریکا کی ایران کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کے اس ملک کی تیل کی برآمدات پر توقع سے کم اثرات مرتب ہوئے تھے لیکن اب امریکا اور چین میں کاروباری سرگرمیوں سے تیل کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے اور یوں اس کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں ۔تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی تیل کی پیداوار میں اضافے سے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں