واشنگٹن ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہا ہے : امریکی عہدے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر ذمے دار نے بتایا ہے کہ واشنگٹن ایرانی معیشت کے نئے سیکٹروں پر اضافی پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے غور کر رہا ہے ۔

پیر کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مذکورہ ذمے دار کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ چاہتی ہے کہ نئی پابندیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مئی 2018 میں ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدگی کے اعلان کا ایک سال گزرنے کے قریب عائد کر دی جائیں۔

یاد رہے کہ رواں سال 26 مارچ کو امریکی وزارت خزانہ نے ایران سے متعلق پابندیاں عائد کیں۔ ان پابندیوں میں ایران اور ترکی میں 25 شخصیات اور اداروں کو ہدف بنایا گیا۔

نشانہ بننے والے اداروں میں بینک اور دیگر مالیاتی ادارے شامل ہیں۔ ان میں انصار بینک، اٹلس ایکسچینج اور ایرانی اٹلس کمپنی نمایاں ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام "فرضی کمپنیوں" کو نشانہ بنایا ہے۔ ان میں ایران اور ترکی میں انصار بینک اور "انصار ایکسچینج" کے دفاتر شامل ہیں۔

وزارت خزانہ نے انکشاف کیا کہ مذکورہ کمپنیوں نے مل جل کر ایرانی نظام کے لیے ایک ارب ڈالر منتقل کیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں