.

ترکی : الاخوان کی ہمنوا جماعت نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر ایردوآن کو شکست دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں الاخوان تنظیم کے ہمنوا ذرائع کی جانب سے ایک حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ترکی میں اسلامی بلاک اور الاخوان تنظیم کی ہمنوا جماعت "سعادت پارٹی" نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں انقرہ ، استنبول ، ازمیر اور انطالیہ میں اپوزیشن کے امیدواروں کے حق میں ووٹ دیا۔ اس کے نتیجے میں ان شہروں میں ایردوآن کی جماعت کے امیدوار ہار گئے۔

بعض دیگر ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ سعادت پارٹی نے انتخابات میں ایسے امیدواروں کے ساتھ حصہ لیا جن کی کامیابی کے امکانات بہت کم تھے۔ اس تدبیر کا مقصد اسلام پسندوں کے ووٹوں کو توڑنا اور اپوزیشن کے امیدواروں کی برتری کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔ اسی باعث انقرہ اور استنبول میں حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ کو اپنے امیدواروں کی ناکامی کا یقین نہیں آیا۔ ذرائع کے مطابق سعادت پارٹی کے تمام ارکان نے اپنی جماعت کے امیدوار کے حق میں ووٹ نہیں دیا بلکہ اپوزیشن کے امیدوار امام اولو کو ووٹ دیا۔

دوسری جانب مصر میں اور ترکی میں مقیم الاخوان کی قیادت نے سعادت پارٹی اور اس کے سربراہ قرہ ملا اولو کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ساتھ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اتاترک کیمپ کے سیکولر عناصر کو اسلامی بلاک کے خلاف کامیاب کرانے کے واسطے سازش میں شریک ہیں۔

سعادت پارٹی کی تشکیل 22 جون 2002 کو ترکی کی آئینی عدالت کی جانب سے الفضیلت پارٹی کی تحلیل کے فیصلے کے بعد عمل میں آئی۔ اس موقع پر دو جماعتیں تشکیل دی گئیں۔ ان میں پہلی رجب طیب ایردوآن کی سربراہی میں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی اور دوسری سعادت پارٹی تھی۔ سعادت پارٹی نجم الدین اربکان کی قیادت میں اسلامی بلاک کی جماعتوں کے روایتی ونگ کی نمائندہ تھی۔ پارٹی کے ارکان نے محمد رجائی قوطان کو پہلا سربراہ منتخب کیا۔ ان کے بعد ڈاکٹر نعمان کورتولموش پارٹی کے سربراہ بنے اور اس کے بعد سے قرہ ملا اولو اس کے سربراہ ہیں۔