.

استنبول کا کامیاب مئیرقرار دیا جائے : حزب ِاختلاف کے امیدوار کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے مئیر کے امیدوار نے ملک کی انتخابی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں کامیاب قرار دیا جائے ۔انھوں نے صدر رجب طیب ایردوآن سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو ترکی کو عدم استحکام سے دوچار ہونے کا سبب بننے سے روکنے کے لیے ’’ تعاون‘‘ کریں۔

ترکی میں اتوار کو منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں صدر ایردوآن کی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی ( آق) نے ملک کے بیشتر بلدیاتی اداروں کی نشستیں جیت لی ہیں لیکن اسے گذشتہ قریباً دو عشرے میں پہلی مرتبہ دارالحکومت انقرہ میں شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے اور وہاں حزب اختلاف کے امیدوار مئیر منتخب ہوگئے ہیں جبکہ استنبول میں حکمراں جماعت اور حزب اختلاف کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے اور وہاں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جا رہی ہے۔

آق نے استنبول کے تمام 39 علاقوں کی نشستوں کے انتخابی نتائج کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔اس نے انتخابی کونسل سے وہاں ہونے والی انتخابی بے ضابطگیوں کو درست کرنے کی اپیل کی ہے اور ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے۔آق کے ڈپٹی چئیرمین علی احسان یافوز نے ان انتخابات کو ملک کی جمہوری تاریخ میں سب سے آلودہ قراردیا ہے جبکہ اس کے برعکس سرکاری حکام نے انھیں ترکی کے شفاف انتخابات قرار دیا ہے۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق ڈیڑھ کروڑ آبادی کے حامل شہر استنبول کے 18 علاقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی جاری تھی ۔انقرہ کے 11 علاقوں میں بھی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جارہی تھی۔ابتدائی نتائج کے مطابق استنبول میں حزبِ اختلاف کے مئیر کے امیدوار اکرم امام اوغلو اپنے حریف حکمراں جماعت کے امیدوار اور سابق وزیراعظم بن علی یلدرم کے مقابلے میں معمولی فرق سے جیت رہے تھے۔

امام اوغلو نے استنبول میں اپنے انتخابی دفتر میں ایک نیوز کانفرنس میں صدر ایردوآن اور ان کے قوم پرست حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ استنبول کےانتخابی نتائج کو تسلیم کریں اور ان نتائج کو ملک میں کسی خطرناک صورت حال کا سبب بننے سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ ان انتخابی نتائج کو ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔

انھوں نے 1994ء میں انتخابات کے موقع کی ایک تصویر بھی پکڑ رکھی تھی ۔ تب صدر رجب طیب ایردوآن خود استنبول کے مئیر منتخب ہوئے تھے۔اس تصویر میں حزب ِاختلاف کے امیدو ار نومنتخب مئیر رجب ایردوآن کی جیت پر خوشی مناتے نظر آرہے ہیں۔امام اوغلو نے صدر سے مخاطب ہوکر کہا کہ اب ان کے لیے اسی طرح کا ردعمل ظاہر کرنے کا وقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ ہم انصاف کے لیے پکار رہے ہیں‘‘۔

انھوں نے حکمراں جماعت کے ڈپٹی چئیرمین اور حکومت کے متضاد بیانات کے حوالے سے کہا کہ ’’ایسا اچانک کیا رونما ہوگیا ہے کہ یہ انتخابات ہماری تاریخ کے سب سے آلودہ قرار پائے ہیں‘‘۔

حکمراں جماعت نے اس پر فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امام اوغلو پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ انتخابی عذر داریوں کے خلاف اپیل کے عمل کا احترام نہیں کررہے ہیں۔علی احسان یافوز نے کہا کہ ’’ ہمیں مصدقہ نتائج کو تسلیم کرنا ہوگا‘‘۔