.

وینزویلا کے وزیر خارجہ لبنان کو اپنے ملک کے بحران میں جھونک رہے ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وینزویلا کے وزیر خارجہ ہورے آریزا اپنا لبنان کا سرکاری دورہ شروع کر دیا ہے۔ وہ منگل کے روز ترکی سے بیروت پہنچے تھے۔ دورے کے دوران وہ لبنانی صدر میشیل عون اور وزیر خارجہ جبران باسیل سے ملاقات کریں گے۔ لبنانی وزیراعظم سعد حریری کا نام آریزا کی سرکاری ملاقاتوں کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔ علاوہ ازیں وہ لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری سے بھی نہیں مل سکیں گے کیوں کہ بری ان دنوں ملک سے باہر ہیں۔

البتہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ آریزا شیعہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ سے ملاقات کریں گے۔ نصر اللہ نے وینزویلا میں سیاسی بحران کے آغاز کے ساتھ ہی اپنی سپورٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ہم امریکی دھاوے کا مقابلہ کرنے کے لیے وینزویلا کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں"۔ صدر نکولس میڈورو نے نصر اللہ کو بھیجے گئے ایک خط میں حزب اللہ کی جانب سے سامنے آنے والی اس قطعی سپورٹ پر شکریہ ادا کیا جو وینزویلا میں اقتدار پر قبضے کے لیے اپوزیشن کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے سلسلے لبنانی ملیشیا نے پیش کی۔

اس دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی محقق اور لکھاری مکرم رباح نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ وینزویلا کے وزیر خارجہ کی لبنان آمد مغرب بالخصوص امریکا کے لیے ایک پیغام ہے۔ اس پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ ایران کے علاوہ بھی ایک ریاست ہے جو ہمارے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ لبنانی لکھاری کے مطابق آریزا کی ملاقات اگر لبنان کے صدر کے بغیر صرف اپنے ہم منصب جیران باسیل تک محدود رہتی تو یہ زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی۔ رباح کا کہنا ہے کہ "وینزویلا کے مہمان کا استقبال کرنے سے ہم اپنے خلاف امریکی پابندیوں کا دروازہ کھول رہے ہیں۔ اس طرح ہم لبنان کو عالمی برادی کی اکثریت کے مقابلے میں لا رہے ہیں جیسا کہ میڈورو آج بین الاقوامی سطح پر تنہا ہو چکے ہیں"۔

سعد حریری کی سربراہی میں لبنانی حکومت نے بیرونی تنازعات کے حوالے سے "کنارہ کشی" کی پالیسی کو سینے سے لگایا ہوا ہے۔ اس نے کراکس میں جاری پیش رفت کے حوالے سے کسی موقف کا اظہار نہیں کیا۔ تاہم "حزب الله" نے وینزویلا میں احتجاجات کے آغاز کے ساتھ ہی فوری طور پر صدر میڈورو کی " نصرت" کے لیے خود کو آگے کر دیا اور وینزویلا میں اپنے کسی بھی گروپ کی موجودگی کی نفی کی۔

رباح کے مطابق لبنان کی کوئی مجبوری نہیں جس کے سبب وہ ایک ایسے ملک کے وزیر خارجہ کا خیر مقدم کرے جس کو ایک شدید بین الاقوامی تنازعے کا سامنا ہو اور وہ امریکا کی نظر میں دشمن شمار کیا جاتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ "اس دورے سے لبنان کی معیشت کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا بالخصوص جب کہ وینزویلا اُن سرکش ممالک میں شمار ہوتا ہے جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں"۔


وینزویلا کے صدر نکولس میڈورو نے مشرق وسطی میں کئی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے جن میں وینزویلا کا تزویراتی حلیف ایران بھی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سیاسی تعلقات ہیں۔ تہران اور کراکس "مغربی ممالک کا مقابلہ کرنے" کے بنیادی اصول پر قوی تعلقات میں بندھے ہوئے ہیں۔ ان ممالک میں امریکا سرفہرست ہے۔

مذکورہ تعلقات تجارت ، تیل اور معیشت کے میدان میں تعاون، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور سیاسی تعاون تک محدود نہیں بلکہ یہ خاص طور پر عسکری اور انٹیلی جنس سرگرمیوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔

ایران اور وینزویلا پر کئی برس سے امریکی پابندیاں عائد ہونے کے باوجود دونوں ملکوں نے اپنے درمیان تعاون بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس تعاون کی بنیاد امریکا کی عداوت میں شراکت ہے۔

رباح نے بتایا کہ کراکس نے منشیات کی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے ذریعے حالیہ پابندیوں سے بچنے میں تہران کی مدد کی۔ اسی طرح وینزویلا نے ایرانیوں بالخصوص پاسداران انقلاب کے عناصر کو 15 ہزار سے زیادہ سفارتی پاسپورٹس جاری کیے۔ ان کے ذریعے یہ افراد ویزے کے بغیر براعظم یورپ میں گھوم پھر سکتے ہیں۔

رباح نے کراکس، تہران اور بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ (حزب اللہ کا گڑھ) کے تکون کا حوالہ دیا جو واشنگٹن اور مغرب کی دشمنی پر اکٹھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ تینوں حکومتیں اپنے عوام کو اس خام خیالی کا یقین دلانا چاہتی ہیں کہ وہ مغربی پابندیوں کے باوجود ڈٹی ہوئی ہیں۔

رباح کے مطابق ہورے آریزا کے دورے کا خطر ناک ترین پہلو یہ ہے کہ "امریکی انتظامیہ میں وینزویلا کے معاملے کی نگرانی کرنے والی دو شخصیات ایلویٹ ابراہمز اور قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن ہیں۔ ابراہمز دھمکی دے چکے ہیں کہ وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی تک ہر ہفتے وہاں کی شخصیات پر اضافی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ یہ دونوں امریکی عہدے دار ایرانی امور کے ماہر ہیں۔ ان کے نزدیک ایرانی نظام اور اس کے ساتھ لین دین کرنے والوں خواہ وہ نکولس میڈورو ہوں یا پھر حزب اللہ کی نمائندگی کی شکل میں لبنان ،،، ان کے سقوط سے قبل دنیا میں امن و استحکام محال ہے۔ لہذا وینزویلا کے وزیر خارجہ کو خوش آمدید کہہ کر مغرب کو چیلنج نہیں کرنا چاہیے۔ معلوم رہے کہ ایرانی جوہری معاہدے سے امریکا کی علاحدگی اور تہران پر دوبارہ سے اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے بعد یورپی ممالک ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسی کے ساتھ موافقت نہیں رکھتے۔ البتہ وینزویلا کے ساتھ قربت کے حوالے سے یورپ اور امریکا ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ ان دونوں نے ہی وینزویلا میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹ کے اسپیکر خوان گوائڈو کو ملک کا عبوری صدر تسلیم کر لیا ہے"۔