اریٹریا کا ترکی اور قطر پرافریقی خطے میں کشیدگی کو بڑھاوا دینے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افریقی ملک اریٹریا نے ترکی اور قطر پرالزام عاید کیا ہے کہ یہ دونوں‌ملک افریقی خطے میں مداخلت کرکے دوبارہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کررہےہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اریٹریا کی وزارت اطلاعات کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی او قطر ایک بار پھر اریٹریا اور اتھوپیا کے درمیان تعلقات خراب کرنا اور افریقی خطے میں کشیدگی پیدا کرنا چاہتےہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ترکی کی حکمران جماعت'انصاف وترقی' اریٹریا اور ایتھوپیا کے درمیان تعلقات خراب کرنے کے لیے مداخلت کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قطر بھی دونوں‌ملکوں کے درمیان سابقہ کشیدگی کی بحالی کے لیے فنڈنگ کررہی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قطر اورترکی مل کر ایتھویپا کے ساتھ امن کوششوں کو آگے بڑھانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کی حکومت نے اریٹریا مسلم رابطہ گروپ قائم کیا۔ اس گروپ کی طرف سے ارٹیریا اور ایتھوپیا کے درمیان تعلقات کی بہتری کے خلاف اعلانیہ منفی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ستمبر 2018ء کو اریٹریا اور ایتھوپیا کے درمیان ایک معاہدہ کرایا تھا۔ اس موقع پر اریٹریا کے صدر اسیاس افورقی اور ایتھوپیا کے آبی احمد علی نے امن معاہدے پر دستخط کئے۔ معاہدے کے وقت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس بھی موجود تھے۔ دونوں ملکوں کے درمیان طویل کشیدگی اور خانہ جنگی کے بعد یہ پہلی امن کوشش سمجھی جاتی ہے مگر ترکی اور قطر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو ہوا دینے کے لیے سرگرم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں