.

لیبیا:خلیفہ حفتر کی فورسز نے فضائی حملے کی زد میں آنے کے بعد نوفلائی زون قائم کردیا

طرابلس کے تباہ شدہ ہوائی اڈے کے نزدیک قومی حکومت کی وفادار فورسز اور لیبی قومی فوج کے درمیان جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مشرقی علاقے سے تعلق رکھنےو الے کمانڈر خلیفہ حفتر کی وفادار فورسز نے ایک فضائی حملے کی زد میں آنے کے بعد مغربی لیبیا میں لڑاکا طیاروں کے لیے نوفلائی زون کا ا علان کردیا ہے۔

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے جنوب میں خلیفہ حفتر کے تحت خود ساختہ لیبی قومی فوج ( ایل این اے) اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قومی حکومت کی وفادار فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری انتونیو گوٹیریس سمیت عالمی لیڈروں نے فریقین سے ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرنے اور ملک میں جاری بحران کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ایل این اے نے ہفتے کے روز میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ہم العزیزیہ کے علاقے پر فضائی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔یہ حملہ کرنے والے طیارے نے مغربی شہر مصراتہ سے اڑان بھری تھی‘‘۔

مصراتہ سے تعلق رکھنے والی فورسز قومی اتحاد کی حکومت کی وفادار ہیں اور ان کی خلیفہ حفتر کے تحت فورسز سے ملک کے مغربی علاقے پر کنٹرول کے لیے لڑائی جاری ہے۔طرابلس میں حکومت نواز فورسز نے حفتر فورسز کو شدید فضائی بمباری میں نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔

دریں اثناء روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل بوغدانوف نے جنرل خلیفہ حفتر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے اور روس کے اس موقف کاا عادہ کیا ہے کہ وہ لیبیا میں جاری بحران کے سیاسی حل کا حامی ہے۔روس کی وزارت خارجہ کے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان کے مطابق خلیفہ حفتر نے نائب وزیر خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے نزدیک دہشت گردوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے کوششوں کے بارے میں بتایا ہے۔

خود کو فیلڈ مارشل کے منصب پر فائز کرنے والے خلیفہ حفتر نے اب اپنے مخالف ملیشیاؤ ں کو دہشت گرد قرار دینا شروع کردیا ہے حالانکہ ان جنگجو گروپوں اور ملیشیاؤں نے سابق مطلق العنان صدر کرنل معمرقذافی کی وفادار فورسز کے خلاف لڑائی میں اہم کردار ادا کیا تھا اور انھوں نے ہی درحقیقت مسلح کارروائی کر کے قذافی کی وفادار فوج کو شکست سے دوچا ر کیا تھا۔

حفتر کی وفادار فورسز کی طرابلس کے جنوب میں قریباً 30 کلومیٹر دور واقع بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک لیبی حکومت کے تحت فورسز کے خلاف لڑائی جاری تھی۔وہاں انھیں ایک چیک پوائنٹ سے پسپا کردیا گیا ہے۔انھوں نے اس پر گذشتہ روز ہی قبضہ کیا تھا لیکن وہ پورے 24 گھنٹے بھی اس پر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکی ہیں۔حفتر کے وفادار فوجیوں نے جمعہ کو مختصر وقت کے لیے ہوائی اڈے پر بھی قبضہ کر لیا تھا لیکن انھیں وہاں سے بھی پسپا کردیا گیا ہے۔

خلیفہ حفتر نے جمعرات کو ایک صوتی پیغام میں اپنے وفادار فوجیوں کو طرابلس پر چڑھائی کا حکم دیا تھا۔اس کے بعد شہر کے مکین اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ متحارب گروپوں کے درمیان ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر لڑائی چھڑ سکتی ہے اور یہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ جنگ کتنا عرصہ جاری رہے گی۔اس کے پیش نظر انھوں نے کھانے پینے کی اشیاء ذخیرہ کرنا شروع کردی ہیں۔عینی شاہدین اور غیرملکی میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز پیٹرول ا سٹیشنوں اور سپر مارکیٹوں میں لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھی گئی ہیں۔

لیبیا میں اس تازہ لڑائی کے باوجود اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسان سلامہ نے بالاصرار کہا ہے کہ ملک میں آیندہ ہفتے ہونے والے طے شدہ مذاکرات شیڈول کے مطابق ضرور ہونے چاہییں اور ہمیں بحران کے سیاسی حل کے لیے لیبی عوام کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے۔