فرانس: قطر پر الاخوان کی فنڈنگ کا الزام عائد کرنے والی کتاب سے ہنگامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

فرانس میں Qatar Papers کے نام سے سامنے آنے والی ایک کتاب میں قطر کی ایک غیر سرکاری تنظیم Qatar Charity (کیو سی) کے کھاتوں کی تفصیلات سے متعلق دستاویزات کا انکشاف کیا گیا ہے۔ کتاب کے مصنفین Christian Chesnot اور Georges Malbrunot ہیں۔ اس ادارے کی مرکزی مشن یورپ میں مسلم کمیونٹیز کی مدد کرنا ہے۔

کتاب میں قطری تنظیم کیو سی کی اُن مالی رقوم کے بارے میں ناقابل تردید ثبوت پیش کیے گئے ہیں جو یورپ بالخصوص فرانس، اٹلی، بیلجیم، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، ناروے اور سربیا وغیرہ میں متعدد مساجد، ثقافتی پروگراموں اور مذہبی سوسائٹیوں کو بھیجی جاتی ہے۔

سال 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق کیو سی نے یورپ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں 140 منصوبوں کی فنڈنگ کی جن کی مجموعیت مالیت 7.2 کروڑ یورو سے زیادہ بنتی ہے۔ اس سلسلے میں اطالیہ کو 2.3 کروڑ یورو سے زیادہ، فرانس کو کم از کم 1.4 کروڑ یورو، ہسپانیہ کو 70 لاکھ یورو، جرمنی کو 50 لاکھو یورو اور برطانیہ کو 40 لاکھ یورو کی رقم ملی۔

کیو سی کی جانب سے فنڈنگ کی کارروائی پیچیدہ نوعیت کے اقدامات کے ذریعے مکمل کی جاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ غیر قانونی طریقے سے ہو مگر اسے مبہم رکھا جاتا ہے تا کہ فنڈنگ کا حقیقی مقصد خفیہ رہے۔

قطری حکام کے اس بیان کے باوجود کہQC کو بنیادی طور پر انفرادی افراد کی جانب سے رقوم ملتی ہیں۔ تاہم مذکورہ کتاب کے مصنفین Malbrunot اور Chesnot نے اس حوالے سے اہم عطیات کنندگان کی فہرست جاری کی ہے۔ ان میں شاہی دیوان، شيخ جاسم بن سعود بن عبد الرحمن آل ثانی، شيخ خالد بن حمد بن عبد الله آل ثانی، شیخ سعود جاسم احمد آل ثانی اور قطر کے سابق امیر حمد بن خلیفہ آل ثانی کا دفتر شامل ہے۔

اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ "كيو سی" اور دنیا بھر میں اسلامی سوسائٹیز کو فنڈنگ دی جاتی ہے۔ ان میں اکثر سوسائٹیز الاخوان المسلمین تنظیم کے افکار اور نظریات پھیلا رہی ہیں جو ایک ایسا متوازی معاشرہ قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے جس پر شدت پسندی پر مبنی مذہبی قوانین لاگو ہوں۔

کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مساجد، اسکولوں، حفظ کے مراکز اور طبی مراکز کو بھی یورپی شہریوں کے اندر الاخوان کی شناخت مضبوط بنانے کے مقصد سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ شادی شدہ جوڑوں اور نئی نسل کو پروان چڑھانے کے سلسلے میں رہ نمائی کے لیے یوسف القرضاوی اور طارق رمضان جیسی شخصیات سے کام لیا جا رہا ہے۔

کتاب کے دنوں مصنفین نے فرانسیسی انٹیلی جنس اداروں کی 2008 کی ایک یادداشت بھی شامل کی ہے۔ یہ یادداشت ظاہر کرتی ہے کہ قطری پروگرام بنیاد پرست جماعتوں کے ساتھ مربوط ہے اور چیچن جماعتوں اور قرضاوی کے زیر انتظام دیگر جماعتوں کے واسطے عطیات جمع کرنے کی مہم چلائی گئی۔

اسی یادداشت میں انٹیلی جنس کے محکمے نے فرانسیسی حکام کو سفارش پیش کی ہے کہ وہ ان سرگرمیوں کے پیچھے قطریوں کے حقیقی ارادے کے بارے میں تحقیق کریں۔

تاہم اس سلسلے میں اس وقت کے وزیر داخلہ نکولس سارکوزی نے کوئی اقدام نہیں کیا۔ جیسا کہ کتاب کے دونوں مصنفین لکھتے ہیں کہ "سارکوزی اور شیخ حمد کے درمیان ہنی مون شروع ہو چکا تھا"۔

فرانس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ کے انسداد سے متعلق محکمے "Tracfin" نے اپنی تحقیقات کے بعد انکشاف کیا کہ فرانس میں الاخوان المسلمین کے نمائندے پروفیسر طارق رمضان کو 2017 میں قطری تنظیم کیو سی کی جانب سے ماہانہ 35 ہزار یورو تنخواہ کی ادائیگی کی گئی۔ طارق نے قطر میں اپنے اکاؤنٹ سے 6 لاکھ یورو کی رقم فرانس میں اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کی۔

ذرائع کے مطابق یہاں تک کہ جب طارق آکسفورڈ یونیورسٹی میں کام کر رہا تھا اس وقت دوران حراست بھی اسے چار ہزار پاؤنڈ کے برابر تنخواہ ادا کی جاتی رہی۔

اس حوالے سے کتاب کے دونوں مصنفین نے استفسار کیا ہے کہ کیا یہ قطر ہی ہے جو فرانس میں الاخوان المسلمین کی شاخ کی قیادت کو براہ راست تنخواہیں ادا کر رہا ہے؟

مذکورہ محکمےTracfin کی جانب سے جمع کردہ معلومات کے مطابق فرانس میں جائیداد کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے طارق رمضان نے 28 جولائی 2017 کو قطر سے فرانس آنے والے 5.9 لاکھ یورو کی رقم دوبارہ سے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں جمع کرائی۔ علاوہ ازیں طارق کو مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے قطری رقوم ملنے کا سلسلہ جاری رہا۔ مختصرا یہ کہ قطر کے بھاری معاوضوں کی مہربانی سے طارق رمضان کے پاس اتنی رقم جمع ہو گئی جو اسے اپنے وکیل کی ادائیگی کرنے کے لیے کافی تھی۔ ایک سال کی یہ رقم 5 لاکھ یورو تک پہنچ گئی۔

قطر چیریٹی یعنی کیو سی کی جانب سے فرانس میں جن اداروں کو فنڈنگ ملتی ہے ان میں اہم ترین فرانس کے شہر لیل میں قائم اسلامک اسکول "نفور" فاؤنڈیشن ہے۔ کتاب میں شامل دستاویزات کے مطابق کیو سی کی جانب سے فرانس میں اسلامی تعلیمی اداروں کو بھی کروڑوں یورو کی فنڈنگ مل چکی ہے۔

ادھر سوئٹزرلینڈ میں بھی "کیو سی" کی جانب سے اسلامی تہذیبوں کے میوزیم کے لیے فنڈنگ فراہم کی جاتی ہے جس کی سربراہ نادیہ کارموس ہیں۔ سال 2011 سے 2013 کے درمیان میوزیم کو 14 لاکھ سوئس فرینک کی رقم موصول ہوئی۔ میوزیم کے کتب خانے میں الاخوان المسلمین کے رہ نماؤں مثلا حسن البنا، القرضاوی، سيد قطب اور طارق رمضان کی کتابیں موجود ہیں۔ نادیہ کارموس مسلم خواتین کے یورپی فورم کی صدر بھی ہیں جس کا صدر دفتر برسلز میں ہے۔ وہ محمد کارموس کی اہلیہ ہیں جس کو فرانسیسی انٹیلی جنس کا ادارہ شدت پسند قرار دے چکا ہے۔

سال 2015 تک اٹلی کے 18 لاکھ مسلمان یورپ میں قطری اخوانی سرمایہ کاری سے سب سے زیادہ مستفید ہونے والے افراد بن گئے۔ یہ رقم 5 کروڑ یورو سے تجاوز کر گئی۔ یہ فنڈنگ یورپی یونین کے راستے (unione delle comunità islamiche d'italia) نامی تنظیم کے ذریعے عمل میں آتی ہے۔

مذکورہ تنظیم نے پورے اٹلی میں مختلف منصبوں کے لیے فنڈنگ فراہم کی۔ ان میں اہم ترین کیتانیا میں مسجد کے لیے 23 لاکھ یورو اور روم میں الجودہ مرکز کے لیے 40 لاکھ یورو ہیں۔

کتاب کے مصنفین کے مطابق جرمنی میں قطر کی سرگرمیاں کچھ عرصہ قبل بڑھ گئی ہیں اور یہ پیش رفت فرانس کی موجودہ صورت حال سے زیادہ بڑھ کر آگے جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ قطر کے بائیکاٹ کے بعد سے جرمنی دوحہ کا مضبوط ترین مدافع رہا۔ اس کے مقابل قطر کے امیر شیخ تمیم نے جرمنی میں 10 ارب یورو کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا۔

اس حوالے سے آئین کے تحفظ کے بیورو کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل یہ بات نوٹ کی گئی کہ الاخوان المسلمین اپنی سرگرمیاں بڑھا کر معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جرمنی میں الاخوان کو ترک کمیونٹی کی جانب سے اچھی سپورٹ ملی ہے۔

کتاب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ کے بعد اخوانی سوسائٹیز کے لیے قطر کی چیریٹی فنڈنگ کا حصول بہت کافی ہو گیا ہے۔

لندن میں قطر کے چیریٹی ادارے کا دفتر بند کر دیا گیا اور اس کے سربراہ ایوب عبد القین کوچ کر گئے۔ بعد ازاں اس ادارے کا نام بدل کر الرحیق فنڈ کر دیا گیا۔ یہ فنڈ ابھی تک قطر چیریٹی یعنی کیو سی سے مالی رقوم حاصل کر رہا ہے۔

دسمبر 2018 میں کیو سی نے 2.77 کروڑ برطانوی پاؤنڈز الرحیق فنڈ کے اکاؤنٹ منتقل کیے۔

کتاب کے اختتام پر مصنفین نے زور دیا ہے کہ قطر چیریٹی یعنی کیو سی کی جانب سے فنڈنگ کے ذریعے یورپ میں الاخوان المسلمین کے اسلام کو پھیلانے اور اسے مضبوط کرنے کا کام انجام دیا جا رہا ہے۔ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد کے بھی یہ ہی مقاصد ہیں۔

کتاب میں بتایا گیا ہے کہ فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے قطر کے امیر شیخ تمیم سے پہلی ٹیلفونک گفتگو میں کہا تھا کہ "میں فرانس اور قطر کے بیچ تزویراتی شراکت داری پر آمادہ ہوں۔ تاہم اس کے مقابل کوئی بھی فنڈنگ میرے علم میں لائے بغیر نہیں ہونی چاہیے اور قطر دہشت گردی کی فنڈنگ کے انسداد کے منصوبوں میں شریک ہو گا"۔

کتاب کے مصنفین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے بعد ہمیں اس بات میں شک ہے کہ امیر قطر نے اپنے وعدے کا احترام کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں