.

ایرانی پاسداران انقلاب : دہشت گرد تنظیم قرار دی جانے والی دنیا کی پہلی عسکری فورس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں 1979 میں شاہی خاندان کے آخری حکمران کا تختہ الٹے جانے کے بعد اسی سال 22 اپریل کو اسلامی جمہوریہ ایران کے موجودہ نظام کے بانی اور سپریم رہ نما یا ولی فقیہ خمینی کے حکم پر ایک عسکری ادارہ قائم کیا گیا۔ اس سکیورٹی عسکری ادارے کو اسلامی انقلاب کے پاسداران (فارسی میں : سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی) کی فورس کا نام دیا گیا۔ یہ تنظیم مختصرا "پاسداران انقلاب" کے نام سے معروف ہے۔ تنظیم کو "انقلاب اور اس کی شخصیات کا دفاع" کرنے، "انقلابی نظام کی مخالف قوتوں" کو پسپا کرنے اور شاہ محمد رضا پہلوی کے ہمنوا عناصر کی جانب سے "مخالف انقلابی تحریک" کو کچلنے کا مشن سونپا گیا۔

ایرانی آئین کے متن کے مطابق پاسداران انقلاب اندرون و بیرون ملک اسلامی جمہوریہ کے نظام کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ اس تنظیم کے نام میں ایران کا لفظ نہیں ہے کیوں کہ اس کی ذمے داری ایرانی جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں۔ بعد ازاں خطے اور دنیا بھر میں کئی ممالک میں ایران کی مداخلت نے اس بات کو ثابت کر دیا۔ اسی بنیاد پر امریکا نے اپنی نوعیت کے پہلے اقدام میں اتوار کے روز پاسداران انقلاب کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا۔ پاسداران انقلاب تقریبا 1.25 لاکھ ارکان پر مشتمل فورس ہے۔ ان کے علاوہ ایک لاکھ کے قریب رضاکار بھی ہیں جو "باسیج فورس" کے نام سے قائم ملیشیا کے ارکان ہیں۔ پاسداران انقلاب زمینی، بحری اور فضائی فورسز پر مشتمل ہے۔

ایرانی نظام کا سپریم لیڈر ملک کی مسلح افواج کا سپریم کمانڈر بھی ہے۔ اس حیثیت کے سبب ایرانی پاسداران انقلاب سپریم لیڈر یا ولی فقیہ کے احکامات کے تابع ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کا تاسیسی اجلاس "عباس‌ آباد" میں منعقد ہوا تھا۔ اجلاس میں پاسداران کے پہلے کمانڈر علی دانش منفرد، دوسرے کمانڈر ابو شریف اور تیسرے کمانڈر محسن رفیق دوست کے علاوہ دیگر عہدے داران بھی شریک تھے۔ ان میں مرتضی الویری، علی محمد بشارتی، محمد غرضی، حسن جعفری، علی فرزين، ضرابی، ہاشام صباغیان اور تہرانجی شامل ہیں۔ آج ان میں سے کوئی ایک نام بھی پاسداران انقلاب کی موجود قیادت کی فہرست میں نظر نہیں آتا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے پہلے صدر ابو الحسن بنی صدر (جو اس وقت پیرس میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں) نے خمینی کی تائید سے جولائی 1980 میں مرتضی رضائی کو پاسداران انقلاب کا کمانڈر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم پھر اگست 1981 میں خمینی نے ذاتی طور پر فیصلہ کرتے ہوئے محسن رضائی (جو اس وقت 28 برس کا تھا) کو پاسداران کا سربراہ مقرر کیا ، وہ 18 برس تک اس عہدے پر فائر رہا۔ رضائی کے مستعفی ہونے کے بعد علی خامنہ ای نے اگست 2007 میں يحيى صفوی کو پاسداران کا سربراہ بنا دیا۔ اس کے دس برس بعد خامنہ ای نے محمد علی جعفری کو پاسداران کے سربراہ کے منصب پر فائز کر دیا۔

ایرانی پاسدران انقلاب کا تنظیمی ڈھانچہ

ولی فقیہ کی جانب سے مقرر کیا جانے والا سپریم کمانڈر پاسداران انقلاب کا سب سے زیادہ اختیارات کا حامل عہدے دار ہوتا ہے۔ اس کے بعد نائب کمانڈر اور پھر چیف آف اسٹاف ہوتا ہے۔

پاسداران انقلاب میں تمام سپریم قیادت کا تقرر پاسداران کے سربراہ کی تجویز سے ایرانی سپریم لیڈر کی موافقت کے بعد ہوتا ہے۔

مختلف ذمے داریوں کے مطابق پاسداران انقلاب کی درج ذیل پانچ فورسز ہیں :

پاسداران اسلامی انقلاب کی زمینی فورس
پاسداران اسلامی انقلاب کی فضائی فورس
پاسداران اسلامی نقلاب کی بحری فورس
پاسداران انقلاب کی باسیج فورس
القدس فورس

علاوہ ازیں پاسداران انقلاب میں دو اضافی ادارے بھی ہیں جو براہ راست ایرانی نظام کے سپریم لیڈر کے احکامات کے تحت کام کرتے ہیں :

ولی فقیہ کا نمائندہ بیورو


جنرل بیورو فار انفارمیشن (یہ درحقیقت پاسداران کا عسکری انٹیلی جنس کا ادارہ ہے).

یہ دونوں ادارے اپنی رپورٹیں براہ راست ایرانی سپریم لیڈر کو پیش کرتے ہیں۔

جنرل محمد علی جعفری نے پاسداران انقلاب کی درج ذیل تین سکیورٹی ذمے داریاں متعین کی ہیں :

- اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا کرنا۔ مثلا میڈیا وار اور سائبر حملے وغیرہ.

- احتجاج، مظاہروں اور غیر مسلح بغاوت کا مقابلہ.

- ایرانی اراضی پر ہونے والے عسکری حملوں کو روکنا. اس واسطے پاسداران انقلاب کی زمینی، فضائی اور بحری فورسز کام میں آتی ہیں.

اقتصادی سرگرمیاں

پاسداران انقلاب نے عراق ایران جنگ (1980-1988) میں اپنی شرکت کے ساتھ ہی ملک کی اقتصادی سرگرمیوں کے میدان میں بھی قدم رکھ دیا تھا۔ اس کے بعد سے اس نے اپنا دائرہ کار وسیع کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ بعض ذرائع کے مطابق پاسداران انقلاب کے زیر انتظام کمپنیوں کی تعداد 5 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ اس طرح وہ ملک میں سب سے زیادہ طاقت ور سکیورٹی اور عسکری ادارے کا روپ اختیار کر چکی ہے۔ پاسداران ملک میں سب سے ضخیم ٹھیکے دار بن بن چکی ہے اور جن ٹھیکے داروں کی پشت مضبوط نہیں وہ پاسداران کے مقابلے کی جرات نہیں کرتے۔ ایران کے موجودہ صدر حسن روحانی پاسداران انقلاب کو "بندوق کی حکومت" قرار دے چکے ہیں۔ اس سے قبل سابق صدر ہاشمی رفسنجانی نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ "پاسداران انقلاب پورے ملک سے کم پر راضی نہیں ہوں گے"۔

رند فانڈیشن کی ایک تحقیق کے مطابق 1988 کے موسم گرما میں عراق ایران جنگ کے خاتمے کے بعد سے آج تک پاسداران انقلاب اپنی زیر انتظام کمپنیوں اور اداروں کے ذریعے 7650 تجارتی سمجھوتے کر چکی ہے۔ فارسی زبان کی ویب سائٹ روز آن لائن کے تجزیے کے مطابق "قانونی اقتصادی" سرگرمیوں کی مد میں پاسداران انقلاب کی سالانہ آمدنی 12 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ تاہم پاسداران نے اقتصادی سرگرمیوں سے متعلق کبھی کوئی رپورٹ نشر نہیں کی۔

سیاسی میدان

ایرانی آئین اور ایران کے موجودہ سپریم لیڈر کی تاکید کے مطابق عسکری اہل کاروں کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ تاہم اس کے باوجود پاسداران انقلاب کے ایک جنرل محمد باقر ذوالقدر کو سابق صدر محمود احمدی نژاد کی حکومت میں نائب وزیر داخلہ اور سکیورٹی امور کے معاون کے طور پر مقرر کیا گیا۔ ایرانی اپوزیشن پاسداران انقلاب پر الزام عائد کرتی ہے کہ اس نے محمود احمدی نژاد کے مفاد میں 2009 کے انجینئرڈ الیکشن کرائے۔ بعد ازاں انتخابی نتائج کے خلاف عوامی ملک گیر احتجاج کو پاسدران انقلاب کی ذیلی باسیج فورس کے ذریعے کچل دیا گیا۔ اس دوران درجنوں مظاہرین ہلاک ہوئے جب کہ ہزاروں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔

مذکورہ تمام امور کے علاوہ ایرانی پاسداران انقلاب کا بیرون ملک دنیا کے مختلف حصوں میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی کارروائیوں میں بھی بھرپور کردار رہا ہے۔