.

ترکی بہ ترکی : ایران نے امریکی سنٹرل کمان کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا

پاسداران انقلاب ایران کو دہشت گرد قرار دینے کی مذمت، مشرقِ اوسط کا امن واستحکام خطرے سے دوچار ہوجائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے سپاہ ِپاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے مشرقِ اوسط کے خطے اور اس سے ماورا علاقوں کا امن واستحکام خطرے سے دوچار ہوجائے گا۔ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے امریکا کی سنٹرل کمان کو ایک دہشت گرد تنظیم اور امریکی حکومت کو دہشت گردی کی پشتیبان قرار دے دیا ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ یہ غیر عاقلانہ اور غیر قانونی اقدام علاقائی اور بین الاقوامی امن واستحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے ۔ایران امریکی رجیم کو دہشت گردی کا معاون قراردیتا ہے‘‘۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک منفرد اور تاریخی لحاظ سے بے مثل اقدام کرتے ہوئے ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔ان کے اس اقدام سے مشرقِ اوسط میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔

ایرانی حکام نے کہا ہے کہ امریکا کا فیصلہ ایک بہت بڑی غلطی ہے ۔اس سے خطے میں امریکا کے مفادات خطرات سے دوچار ہوجائیں گے کیونکہ ایران نے شام سے لبنان تک گماشتہ جنگیں شروع کررکھی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ امریکا کے اس اقدام کا مقصد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی پارلیمانی انتخابات میں دوبارہ کامیابی کو یقینی بنانا ہے ۔انھوں نے مزید کہا کہ ’’نیتن یاہو کو الیکشن سے قبل ایک اور مس گائیڈڈ تحفہ مل گیا ہے ۔ یہ امریکا کی خطے میں ایک اور مہم جوئی ہے‘‘۔

واضح رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب ماضی میں کئی مرتبہ یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ مشرق ِ اوسط میں امریکا کے اڈوں کو نشانہ بنائیں گے اور خطے میں امریکا کے طیارہ بردار بیڑوں کو ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنائیں گے ۔ایران نے امریکا کی جانب سے اپنی تیل کی برآمدات میں رخنہ ڈالنے کی صورت میں آبنائے ہُرمز سے تیل کی تجارت کو روکنے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے۔