.

سوڈان : فوج کی کمان کے ہیڈ کوارٹر کے اطراف مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں منگل کی صبح عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دارالحکومت خرطوم میں فوج کی جنرل کمان کے ہیڈ کوارٹر میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس دوران ہیڈ کوارٹر کے اطراف فائرنگ کے تبادلے کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔ یہ صورت حال فوج کی کمان کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے ایک دھرنے کو طاقت کے زور پر منتشر کرنے کی کوشش کے دوران سامنے آئی۔ تاہم دھرنا ختم کرانے کی کوشش کرنے والے فریق کے حوالے سے بات واضح نہیں ہے۔

علاوہ ازیں غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق دھرنے کے مقام پر فوج اور ریپڈ ایکشن فورس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے بعد سوڈانی فوج نے جنرل کمان کے ہیڈ کوارٹر کے گرد سکیورٹی گھیرا ڈال لیا۔ علاوہ ازیں فوج نے دھرنے میں شامل بعض افراد کے زخمی ہونے کی خبروں کے بعد مظاہرین کے تحفظ کے لیے ان کو بھی گھیرے میں لے لیا۔

سوڈانی پروفیشنلز ایسوسی ایشن نے باور کرایا ہے کہ فوج کی جنرل کمان کے ہیڈا کوارٹر کے سامنے ان کے دھرنے کومنتشر کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جانے والے وڈیو کلپوں میں دھرنے کے مقام پر مظاہرین کو دکھایا گیا ہے۔ اس دوران شدید فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے دھاوے روکنے والوں میں فوج کے اہل کاروں کا گروپ بھی شامل ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق جھڑپوں کے نتیجے میں سوڈانی فوج کے دو اہل کار ہلاک ہو گئے۔ ادھر العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں سے گفتگو کرتے ہوئے بعض ذرائع نے بتایا ہے کہ غالب گمان کے مطابق مظاہرین پر دھاوا بولنے والی فورس حکمراں جماعت کے زیر انتظام اسپشیل بریگیڈز میں سے تھی۔

اس سے قبل سوڈان میں ڈیکلریشن آف فریڈم اینڈ چینج نے عوام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فوج کے ہیڈ کوارٹر کے اطراف دھرنے کے مقام پر پہنچیں اور صدر بشیر کی سبک دوشی کا مطالبہ کریں۔ اس کے جواب میں سوڈانیوں کی ایک بڑی تعداد مسلسل تیسری شب دھرنے کے مقام پر پہنچی۔

الحدث نیوز چینل کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اسلامک موومنٹ کے بریگیڈز کے ذریعے دھرنے کو ختم کرانے کی کوششوں کی اطلاعات ہیں۔ ڈیکلریشن آف فریڈم اینڈ چینج ایک اخباری بیان جاری کیا ہے جس میں عوامی مطالبات کی تصدیق کی گئی ہے۔ ان مطالبات میں سوڈانی صدر عمر البشیر کی فوری سبک دوشی اور ڈیکلریشن آف فریڈم اینڈ چینج اور انقلابی فورس پر مشتمل ایک کونسل کا قیام شامل ہے۔ یہ کونسل حکومتی فورسز اور مقامی اور بین الاقوامی سطح پر فعال فریقوں کے ساتھ سیاسی رابطے کی ذمے داری پوری کرے گی ،،، تا کہ سیاسی منتقلی کا عبوری مرحلہ پایہ تکمیل تک پہنچے اور اقتدار ایک عبوری شہری حکومت کے حوالے کیا جائے جس پر عوام آمادہ ہوں۔

ادھر سوڈانی وزیر دفاع نے مسلح افواج کے کردار کو سراہا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ فوج کسی طور بھی انارکی پھیلانے اور امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ نے سوڈان کی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ دھرنا دینے والوں کے خلاف تشدد کا استعمال نہ کرے۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ "اگر حکومت نے تشدد کا راستہ اپنایا تو ہمارے تعلقات متاثر ہوں گے"۔

سوڈان میں برطانوی سفیر نے بھی اپنے طور پر باور کرایا ہے کہ پر امن احتجاج ایک بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کی نظریں سوڈان پر لگی ہوئی ہیں اور مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔