.

نیویارک ٹائمز کے میدان پر قطر اور یہودیوں کے درمیان معرکہ آرائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کو اس وقت ایک نئے حریف کے ساتھ اختلاف کا سامنا ہے۔ یہ حریف یہودی شخصیات کی صورت میں سامنے آیا ہے جنہوں نے انکشاف کیا ہے کہ دوحہ نے ان کے اختلافات میں مداخلت کی ہے اور ایک ڈیموکریٹک لکھاری کو فنڈنگ کی ہے۔ یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" میں شائع ہونے والے مضمون کے پیچھے قطر کا ہاتھ ہے۔ اس مضمون میں ڈیموکریٹک پارٹی میں یہودیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

تاہم قطر کی مداخلت کے پیچھے کیا راز ہے ؟ مختصر طور پر اس کا جواب یہ ہے کہ قطر اس وقت بین الاقوامی سطح پر "الاخوان" تنظیم کا مرکز ہے اور اس کی زیادہ تر سرگرمیاں شدت پسندوں کے ہاتھوں چلائی جا رہی ہیں۔

امریکی چینل "فوکس نیوز" کی ویب سائٹ پر مضمون میں خاتون لکھاری Adelle Nazarian نے قطر کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ یہودیوں کے خلاف برسرجنگ ہے۔ مضمون کا نام How Qatar infiltrated The New York Times ہے۔

نازاریان کے مطابق نیویارک ٹائمز میں مضمون لکھنے والے لکھاری Nathan Thrall کو قطر کی سپورٹ ملتی ہے اور دوحہ ہمیشہ امریکی صحافت پر اثر انداز ہونے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ نیتھن کے مضمون کا بنیادی پہلو امریکیوں کو حائم صبان جیسے یہودی عطیہ کنندگان سے خبردار کرنا ہے کیوں کہ وہ میڈیا اور حکومت میں خفہ کنٹرول رکھتے ہیں۔

نازاریان نے اپنے مضمون میں کہا کہ "گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اسرائیل کو ایک نئے طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ میں حماس کے راکٹ حملوں کی بات نہیں کر رہی بلکہ نیویارک ٹائمز اخبار میں شائع ہونے والے ایک حیرت انگیز مضمون کے بارے میں بتا رہی ہوں۔ اس مضمون میں بائیکاٹ کی تحریک، سرمایہ کاری نکال لینے اور پابندیوں پر بات کی گئی ہے۔ ساتھ ہی حائم صبان جیسے نمایاں عطیہ کنندگان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی پر اسرائیل کے مفادات مسلط کر رہے ہیں۔ مضمون لکھنے والے نیتھن تھرال کے قطر کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ ملک دنیا میں دہشت گردی کے سب سے بڑے سرپرستوں میں سے ایک ہے"۔

نازاریان مزید لکھتی ہیں کہ نیتھن تھرال کی پروپیگنڈا مہم کا پلیٹ فارم بننے پر بہت سے حلقوں نے نیویارک ٹائمز کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہودیوں کے لیے پروپیگنڈا یا نفرت انگیزی ہر جگہ اہمیت نہیں رکھتی مگر نیتھن تھرال اور قطر کے ساتھ اس کے روابط باعث تشویش ہیں۔ اس سلسلے میں ایک مؤقر ادارے(Free Beacon) کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ نیتھن ایک ایسی تنظیم کا ملازم ہے جس کو قطری حکومت سے فنڈنگ ملتی ہے اور یہ تنظیم بہت سے اسرائیل مخالف سرگرم افراد کے ساتھ تعلقات رکھتی ہے۔

نازاریان کے مطابق یہ بات درست ہے کہ نیویارک ٹائمز نے ایک ایسے شخص کا مضمون شائع کیا جو قطر کا تنخواہ دار ہے۔ یہ شخص عطیات کنندگان کا تشخص مسخ کر رہا ہے۔ اپنے مضمون کے 11500 الفاظ میں اس نے قطر کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا جب کہ وہ دہشت گردی کے عالمی مرکزی بینک کی حیثیت رکھتا ہے ،، اور ایران نواز حماس تنظیم کا معروف سرپرست ہے۔

امریکی خاتون لکھاری کے نزدیک یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں کیوں کہ امریکی صحافت پر اثر انداز ہونے کے لیے قطر کی کوششوں میں گزشتہ چند برسوں کے دوران تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ خلیجی ریاست نفوذ خریدنے اور اس کے ذریعے کھلواڑ کے لیے کروڑوں ڈالر ادا کر رہی ہے تا کہ اس بات کو کنٹرول کر سکے کہ امریکی صحافت مشرق وسطی کے امور پر کس طرح روشنی ڈال رہی ہے۔

نازاریان کے مطابق نیتھن تھران کے مضمون میں یہ باور کرایا گیا ہے کہ حائم صبان جیسے عطیہ کنندگان نے ڈیموکریٹک پارتی میں آزادی اظہار کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ تھرال نے امریکی عوام کو صبان جیسے یہودیوں سے خبردار کیا ہے کیوں کہ وہ خفیہ طور سے میڈیا اور حکومت میں اپنا کنٹرول رکھتے ہیں۔ یہ نکتہ چینی بے ہودگی نہیں بلکہ قطر کی جانب سے ایک خطرناک پیش رفت ہے۔ نیتھن تھرال کا مضمون ملاحظہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہودی کارکنان کی ساکھ خراب کرنے اور امریکی سیاست میں نفوذ خریدنے کے حوالے سے ان پر الزام تراشی کی بھونڈی اور مضحکہ خیز کوشش کی گئی ہے۔

نازاریان نے لکھا ہے کہ عطیات کنندگان کی تصویر بگاڑنے والے مضمون کا شائع ہونا ایسا امر ہے جو بائیکاٹ کی تحریک، سرمایہ کاری نکال لینے اور عالمی پیمانے پر پابندیوں کی حمایت کرتا ہے۔ خاتون لکھاری کے مطابق یہ نیویارک ٹائمز اخبار کے انحطاط کی ایک نئی سطح ہے۔

نازاریان کہتی ہیں کہ اس نئی نکتہ چینی کا واحد روشن پہلو یہ ہے کہ "نیتھن تھرال کے مضمون نے ہمیں اُن شرپسند کوششوں کے حوالے سے منتبہ کر دیا ہے جو قطر کی جانب سے امریکی ذرائع ابلاغ کو خریدنے کے واسطے کی جا رہی ہیں۔ بہرکیف ہم یہ نہیں جان سکتے کہ اس کے بعد قطر کس نوعیت کا اثر و نفوذ خریدنے کی کوشش کرے گا"۔