ترک صدرایردوآن کا استنبول میں بے ضابطگیوں پرمئیر کا انتخاب کالعدم قرار دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے حکام سے استنبول میں گذشتہ ہفتے منعقدہ مئیر کے انتخاب کو مبیّنہ بے ضابطگیوں پر کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

صدر ایردوآن کی حکمراں جماعت انصاف اور ترقی پارٹی ( آق) کو 31 مارچ کو منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ آق کے امیدوار اور سابق وزیراعظم بن علی یلدرم کو حزب اختلاف عوامی جمہوری پارٹی کے امیدوار اکرم امام اوغلو میں قریباً 30 ہزار ووٹوں سے شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔

تاہم ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد ووٹوں کا یہ فرق کم ہوگیا تھا ۔آق کا کہنا ہے کہ وہ الیکشن حکام سے استنبول میں میئر کا انتخاب دوبارہ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترک روزنامے حرّیت کی رپورٹ کے مطابق صدر ایردوآن نے انتخابی بے ضابطگیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئےکہا کہ اگر حکام کا مخلصانہ رویّہ ہوتا تو وہ انتخاب کو منسوخ قرار دے دیتے۔انھوں نے بیلٹ باکسز کے نگران حکام کو بے ضابطگیوں کا ذمے دار ٹھہرایا ہے اور کہا کہ یہ نگران مختلف پیشوں سے تعلق رکھتے تھے اور سول حکام کے بجائے فوجی حکام بیلٹ باکس چیفس کے طور پر کردار ادا کررہے تھے۔

انھوں نے روس کے دورے سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہمارے ساتھیوں نے اس کی تصدیق کی ہے اور ان تمام کاموں سے انتخاب کے بارے میں شکوک پیدا ہوئے ہیں‘‘۔انھوں نے روسی صدر ولادی میر پوتین سے بات چیت کی تھی۔

واضح رہے کہ آق اور سی ایچ پی دونوں کا کہنا ہے کہ استنبول کے مئیر کے انتخاب میں حزب اختلاف کے امیدوار کو چودہ ہزار ووٹوں سے برتری حاصل ہے۔ایردوآن نے سوموار کو کہا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کے دوران میں ’’بیلٹ باکس کی چوری ‘‘ اور’’ منظم جرائم‘‘ کا ارتکاب کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ترکی میں 30 مارچ کو منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں صدر ایردوآن کی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی ( آق) نے ملک کے بیشتر بلدیاتی اداروں کی نشستیں جیت لی تھیں لیکن اسے گذشتہ قریباً دو عشرے میں پہلی مرتبہ دارالحکومت انقرہ میں شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے اور وہاں حزبِ اختلاف کے امیدوار مئیر منتخب ہوگئے ہیں آق نے استنبول کے تمام 39 علاقوں کی نشستوں کے انتخابی نتائج کے خلاف انتخابی کونسل کے ہاں بے ضابطگیوں کے خلاف اپیل دائر کی تھی اور ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں