شاہ سلمان اور ولی عہد تمام سعودیوں کے سرپرست ہیں: صلاح جمال خاشقجی

کسی تیسرے فریق کو خاشقجی خاندان کی جانب سے قتل کیس پر بولنے کا حق نہیں،کسی کے پاس معلومات ہیں تو سامنے لائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے مقتول صحافی جمال خاشقجی کے بیٹے صلاح جمال نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے اور اس میں واضح کیا ہے کہ کسی تیسرے فریق کو ان کے خاندان کی جانب سے ان کے والد کے قتل کیس پر بولنے کا حق حاصل نہیں اور اگر کسی کے پاس اس ضمن میں کوئی اطلاع یا معلومات ہیں تو وہ سامنے لائے۔

انھوں نے لکھا ہے:’’ جمال خاشقجی ایک معزز صحافی اور محبِّ وطن سعودی شہری تھے۔ان کے ورثے کو داغدار اور تناؤ پیدا کرنے کی حالیہ کوششیں بالکل غیر اخلاقی ہیں‘‘۔

’’خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان تمام سعودیوں کے سرپرست ہیں اور وہ ایسے ہی سمجھے جاتے ہیں۔فراخ دلی اور انسانیت پر مبنی اقدامات ان کی اعلیٰ اخلاقی قدروں کے غماز ہیں ، یہ کسی گناہ یا اسکینڈل کے اعتراف کا مظہر نہیں۔جمال خاشقجی کا خاندان اچھائی کے اقدامات پر شکر گزار ہے‘‘۔

وہ لکھتے ہیں:’’ ہم کیس کے بارے میں جاننے کی خواہش کو سمجھتے ہیں۔ ہمیں قانونی طور پر کیس کی پیش رفت کے بارے میں جو کچھ معلوم ہوتا ہے،اس کو منظرعام پر لائیں گے۔ہمارے کسی دوست یا مشیر یا کسی تیسرے فریق کو ہماری جانب سے بولنے کا اختیار ہے اور نہ ہمارے بجائے کوئی خود کو معلومات کا ذریعہ ہونے کا دعوا کرسکتا ہے۔جمال کی اولاد اور ہمارے وکیل معتصم خاشقجی ہی کو اس کیس پر بولنے کا حق حاصل ہے‘‘۔

صلاح نے اپنے والد کے قتل کے مقدمے کی سماعت کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’یہ ابھی جاری ہے اور تصفیے کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔جن لوگوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا تھا یا جو اس ملوث تھے ، انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور سزا دی جائے گی‘‘۔

انھوں نے ٹویٹ میں مزید کہا ہے کہ ’’کیس سے متعلق کسی بھی اطلاع اور ثبوت کا خیر مقدم کیا جائے گا اور راست رو لوگوں کی جانب سے ایسے شواہد منظر عام پر لانے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔انصاف میں معاونت ایک اچھا اور نیک کام ہے۔اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ اس طرح کے دیانت دارانہ اور مخلصانہ اقدامات سے جمال خاشقجی اور ان کے خاندان کو حقیقی معنوں میں انصاف مل سکتا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں