.

برطانیہ میں گرفتار وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج پر امریکا میں سازش کے الزام میں فردِ جُرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے پراسیکیوٹرز نے برطانیہ میں جمعرات کے روز گرفتار کیے گئے وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج پر سازش کے الزام میں فرد جرم عاید کردی ہے۔ان پر آرمی کی سابق انٹیلی جنس تجزیہ کار چیلسیا میننگ سے 2010ء میں مل کر امریکی حکومت کے خفیہ کمپیوٹر نظام تک رسائی کا الزام ہے۔

امریکی محکمہ انصاف نے جمعرات کو اسانج کی لندن میں گرفتار ی کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ انھیں امریکی الزامات پر زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے اور انھیں ممکنہ طور پر برطانیہ سے بے دخل کرکے امریکا کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔

وکی لیکس کے 47 سالہ بانی کے خلاف امریکا میں سابق صدر براک اوباما کے دور سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔انھوں نے 2010ء میں وکی لیکس کی ویب سائٹ پر امریکی فوج کی افغانستان اور عراق میں جنگوں سے متعلق ہزاروں خفیہ رپورٹس اور مختلف ملکوں میں امریکی سفارت خانوں کی مراسلت کو شائع کیا تھا۔

امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ اسانج کی گرفتاری امریکا اور برطانیہ کے درمیان بے دخلی کے معاہدے کے تحت عمل میں آئی ہے۔اس نے اسانج پر امریکا کی تاریخ میں خفیہ معلومات کو افشا کرنے کی سب سے بڑی کارروائی میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔

ان کے خلاف فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ اسانج نے مارچ 2010ء میں امریکا کے محکمہ دفاع کے کمپیوٹرز کے پاس ورڈ کو توڑنے کے لیے چیلسیا میننگ کے ساتھ مل کر سازش کی تھی۔یہ کمپیوٹر ز امریکی حکومت کے سیکرٹ انٹر نیٹ پروٹو کول نیٹ ورک ( سپر نیٹ) سے مربوط تھے۔ان پر کمپیوٹر میں دراندازی کی سازش کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

محکمہ انصاف کے مطابق میننگ کو انٹیلی جنس تجزیہ کار کی حیثیت سے ان کمپیوٹرز تک رسائی حاصل کی تھی۔وہ وہاں سے خفیہ ریکارڈ کو ڈاؤن لوڈ کرکے وکی لیکس کو بھیجتی رہی تھیں ۔وہ پاس ورڈ توڑنے کے بعد اپنے علاوہ دوسرے کمپیوٹرز تک بھی رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھیں جس کی وجہ سے تحقیقات کاروں کے لیے معلومات کے غیر قانونی افشا کے ذمے داروں کا تعیّن کرنا مشکل ہو گیا تھا۔

اوباما انتظامیہ نے وکی لیکس کے خلاف اس بنیاد پر مقدمہ نہ چلانے کا فیصلہ کیا تھا کہ اس کا کام بھی صحافیوں کی سرگرمیوں ایسا تھا اور صحافتی کام کو امریکی آئین میں پہلی ترمیم کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

امریکا کے خصوصی وکیل رابرٹ میولر نے بھی 2016ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں روس کے کردار سے متعلق اپنی بائیس ماہ کی تحقیقات میں وکی لیکس کے کردار کا بھی ذکر کیا ہے۔اس نے اپنی ویب سائٹ پر ان ای میلز کو شائع کیا تھا جن سے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کو نقصان پہنچا تھا۔میولر اور امریکا کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ان ای میلز کو روس نے چُرایا تھا اور ان کا مقصد صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کو فائدہ پہنچانا تھا۔