.

سعودی عرب میں امریکا کے نئے سفیر جنرل جان پی ابی زید کے تقرر کی توثیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینیٹ نے ریٹائرڈ جنرل جان پی ابی زید کے سعودی عرب میں امریکا کے سفیر کی حیثیت سے تقرر کی توثیق کردی ہے۔

سینیٹ کے 92 ارکان نے ان کے تقرر کی حمایت کی ہے اور صرف سات ارکان نے مخالفت کی ہے۔ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی دونوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کی اکثریت نے ان کی بھرپور حمایت کی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کی سعودی پالیسی کے ناقدین نے بھی ان کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

سینیٹر کرس مرفی نے کہا کہ ’’ابی زید ایک اچھا انتخاب ہیں۔ میں انتظامیہ کی سعودی عرب کے بارے میں کم زور اور ازکار ِرفتہ پالیسی سے بالکل بھی اتفاق نہیں کرتا ہوں لیکن مجھے خوشی ہے کہ وہاں اب ہمارا ایک سفیر ہوگا‘‘۔

واضح رہے کہ جنرل جان ابی زید امریکا کی مرکزی کمان کے سب سے زیادہ عرصہ کمانڈر رہے تھے۔ وہ 2003ء سے 2007ء میں اپنی ریٹائرمنٹ تک اس عہدے پر فائز رہے تھے۔وہ گریناڈا ، خلیج فارس ، بوسنیا ، کوسوو ، افغانستان اور عراق میں امریکی فوج کےکمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔

سعودی عرب میں جنوری 2017ء کے بعد سے کوئی امریکی سفیر تعینات نہیں تھ۔تب الریاض میں سابق صدر براک اوباما کے مقرر کردہ امریکی سفیر جوزف ویسٹ فل کو واپس بلا لیا گیا تھا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند ہفتے قبل ہی چار ستارہ ریٹائرڈ آرمی جنرل جان پی ابی زید کو الریاض میں نیا سفیر مقرر کیا تھا۔

انھوں نے امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے روبرو اپنے تقرر کی تصدیق کے لیے سماعت کے وقت بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کو مشرقِ اوسط میں استحکام کے لیے درپیش چیلنجز کے باوجود سعودی عرب کے ساتھ ایک مضبوط اور پختہ شراکت داری کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ’’ سعودی عرب کے ساتھ شراکت داری اور اس کے تعاون کے بغیر سنی انتہا پسندی کو روک لگانے یا ایران پر چیک برقرار رکھنے کے لیے امریکا کی کوششوں کی کامیابی کا تصور بھی محال ہے‘‘۔

انھوں نے واضح کیا کہ امریکا کی سعودی عرب سےتعلق داری ایک قوم کے ساتھ اور ایک حکومت کے ساتھ ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ طویل المیعاد مسائل کے حل کے لیے کام کریں گے۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنا پہلا غیر ملکی دورہ سعودی عرب ہی کا کیا تھا ۔