.

سوڈان : العربیہ کے ذرائع کو صدر عمر البشیر کی سبک دوشی کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں ذرائع نے العربیہ کو تصدیق کی ہے کہ صدر عمر البشیر اپنے منصب سے سبک دوش ہو گئے ہیں۔ مذکورہ ذرائع کے مطابق ملک میں نئی قیادت اقتدار سنبھالے گی۔ ملک کے بعض علاقوں میں عوام کی جانب سے جشن منانے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل سوڈان کے سرکاری ریڈیو نے جمعرات کی صبح اعلان کیا تھا کہ مسلح افواج کی جانب سے ایک اہم بیان جاری کیا جائے گا۔ اس دوران ملک میں فوجی انقلاب کے امکان سے متعلق بھی خبریں موصول ہوئیں۔

اسی طرح یہ خبریں بھی مل رہی ہیں کہ سوڈانی فوج کے افسران کا ایک گروپ سرکاری ریڈیو اور ٹیلی وژن کی عمارت میں داخل ہو گیا اور حکام سے تمام فریکوینسیز کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ فوج کی اعلی کمان کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں صدر عمر البشیر موجود نہیں تھے۔

عینی شاہدین نے تصدیق کی ہے کہ فوجی اہل کاروں کی ایک بڑی تعداد اور بکتر بند گاڑیاں صدارتی محل کے اطراف تعینات ہیں جب کہ محل میں آمد و ورفت کا سلسلہ روک دیا گیا ہے۔

ادھر العربیہ کی خاتون نمائندہ نے بتایا ہے کہ سوڈانی ریڈیو جمعرات کی صبح سے ہی ملی نغمے اور ترانے نشر کر رہا ہے۔ یہ عمل عموما ملک میں انقلاب سے قبل دیکھنے میں آتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ خرطوم میں فوجی قیادت کے صدر دفتر کے سامنے دھرنا دینے والوں کی تعداد میں بدھ کی شام اضافہ ہو گیا۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ام درمان میں سرکاری ریڈیو اور ٹیلی وژن کی عمارت کے اطراف بڑے پیمانے پر عسکری کمک موجود ہے۔

دارالحکومت خرطوم کی مرکزی شاہراہوں پر بھی ریپڈ ایکشن فورسز کے اہل کاروں کی بڑی تعداد پھیلی ہوئی ہے۔

دوسری جانب سوڈانی پروفیشنلز ایسوسی ایشن نے فوج کے صدر دفتر کے سامنے دھرنے میں شامل ہونے اور وہاں بیٹھے رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ سوڈانی سکیورٹی اور انٹیلی جنس ادارے نے بدھ کی شب ایک بیان جاری کیا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ ملک کا آئین اور انسانی حقوق کے منشور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ عوام کو پر امن مظاہروں کا حق حاصل ہے۔ بیان میں سوڈان کے شہریوں پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ ملک کو سکیورٹی عدم استحکام کے گڑھے میں دھکیلنے سے خبردار رہیں۔