سوڈان میں عبوری مرحلہ دو سال سے زاید نہیں ہونا چاہیے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت خارجہ نے سوڈان میں عمر البشیر کو منصب صدارت سے ہٹا کر اقتدار پر فوجی قبضے کے بعد اپنا رد عمل جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سوڈان میں عبوری حکومت کا دور دو سال سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے.

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سوڈانی قوم کے مطالبات واضح ہیں۔ ان کے مطالبات کوسنا جانا چاہیے۔ عوام کی امنگوں کا احترام کیا جائے. بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا سوڈان میں پرامن اور جمہوری تبدیلی کے عمل میں سوڈانی قوم کے ساتھ ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان رابرٹ بالاڈینو نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں‌ کہا کہ سوڈانی فوج کو چاہیے کہ وہ اقتدار سول عبوری انتظامیہ کے حوالے کر دے اور عبوری دور دو سال سے زاید عرصے پر محیط نہیں ہونا چایئے۔ امریکا نے سوڈانی فوج پر زور دیا کہ وہ ملک میں تمام طبقات کی نمائندہ حکومت تشکیل دے۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سوڈان میں عبوری دور حکومت دو سال سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ عبوری انتظامیہ کو دو سال کے اندر اندر اقتدار ملک کے منتخب نمائندوں کے حوالے کرنا چاہیے.

ادھر امریکا نے ایک دوسری پیش رفت میں سوڈان کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے جاری مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔ سوڈان کے وزیر دفاع اور سپریم سیکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین جنرل عوض بن عوف نے جمعرات کے روز صدر عمر البشیر کا تختہ الٹ کر انہیں گرفتار کر لیا اوردستور معطل کر دیا گیا ہے. صدر البشیر کے کئی قریبی ساتھیوں اور ان کی جماعت کی قیادت کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے.

فوج نے ملک میں تین ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ماہ کے لیے فضائی سروس بند اور رات دس بجے کے بعد کرفیو کا اعلان کیا ہے. فوجی حکومت کی طرف سے کرفیو کے علان کے باوجود لاکھوں لوگ اب بھی سڑکوں پر موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں