سوڈانی عبوری عسکری کونسل کے چیئرمین جنرل عوض بن عوف سبکدوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان میں صدر عمر البشیر کی معزولی کے بعد قائم ہونے والی عبوری عسکری کونسل کے چیئرمین میجر جنرل عوض بن عوف نے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے جنرل عبدالفتاح‌ الرھان کو عسکری کونسل کا نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق سوڈان کی عبوری عسکری کونسل کے عہدیداروں میں مزید تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ جنرل عمر زین العابدین کو کونسل کی سیاسی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ قبل ازیں جمعہ کے روز عسکری کونسل کی طرف سے کہا گیا تھا کہ عبوری کونسل ملک کی تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے فضاء سازگار کرے گی۔

جنرل عمر زین العابدین نے کہا کہ ملک میں‌ جاری بحران جامع حل کا تقاضا کرتا ہے۔ عسکری کونسل مظاہرین کے مطالبات پورے کرے گی۔ ہمیں اقتدار کا لالچ نہیں۔ سبکدوش صدر عمر البشیر کو حفاظتی تحویل میں‌ لیا گیا ہے۔ مظاہرین کے قتل عام میں ملوث عناصر کے خلاف عدالتیں فیصلہ کریں گی۔

انہوں‌ نے کہا کہ عسکری کونسل عمر البشیر کو عالمی فوج داری عدالت کے حوالے نہیں کرے گی اور نہ ہی کسی دوسرے سوڈانی لیڈر کو کسی دوسرے ملک یا عدالت کے حوالے کیا جائے گا۔

جمعہ کے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا "ہم عوامی مطالبات کے محافظ ہیں اور یہ مینڈیٹ تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے ہمارے سپرد کیا ہے۔" ان مزید کہنا تھا کہ "ہم [فوج] اقتدار کے حریص نہیں ہیں۔"

زین العابدین کے بقول "عبوری فوجی کونسل کے پاس سوڈان کو درپیش بحرانی کیفیت کا حل نہیں ہے بلکہ موجودہ صورتحال سے نکلنے کی راہ مظاہرین ہی سجھائیں گے۔"

سوڈان کی عبوری فوجی کونسل کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ نے مزید کہا کہ "بحران کے خاتمے کے لئے فوجی کونسل مسلح جھتوں سے مذاکرات کا خیر مقدم کرتی ہے۔ ہم لوگوں پر اپنی طرف سے کچھ مسلط نہیں کریں گے۔ کونسل کی کوشش ہے کہ مذاکرات کے لئے ساز گار فضا تیار کی جائے۔"

زین العابدین نے بتایا کہ فوجی کونسل کو توقع ہے عبوری سیاسی انتقال اقتدار زیادہ سے زیادہ دو برسوں میں مکمل ہو جائے گا، تاہم اگر یہ سارا کام بغیر افراتفری کے ہو سکا، تو اس کے لئے ایک ماہ کی مدت بھی کافی ہو گی۔" انھوں نے کہا کہ معزول صدر عمر البشیر کی سابق حکمران جماعت نیشنل کانگریس پارٹی کو سوڈان میں آئندہ ہونے والے انتخاب میں شرکت کی اجازت ہو گی۔

عبوری فوجی کونسل کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ نے معزول صدر عمرالبشیر کی کسی دوسرے ملک حوالگی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان پر سوڈان ہی میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں