عمر البشیر کی معزولی کے بعد دنیا سوڈان کے قرضوں کو کس طرح دیکھ رہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان میں 30 برسوں سے اقتدار پر براجمان صدر عمر البشیر کی معزولی نے ملک کے قرضوں سے متعلق افراد کے درمیان نئی دلچسپی پیدا کر دی ہے جو طویل عرصے سے ادا نہیں کیے جا رہے ہیں۔

سوڈان میں اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں اور بے روزگاری میں بے تحاشا اضافے کے خلاف کئی ہفتوں سے جاری عوامی مظاہروں کے بعد 75 سالہ عمر البشیر کو جمعرات کے روز کرسی صدارت سے علاحدہ کر دیا گیا۔

ملک کا نظام سنبھالنے والی عسکری کونسل نے وعدہ کیا ہے کہ عبوری مدت کے اختتام پر ایک منتخب شہری حکومت سامنے آئے گی۔

گزشتہ چار دہائیوں میں سوڈان پر جمع ہونے والے قرضے ان ممالک کے قرضوں کا ایک حصہ ہیں جو عالمی برادری سے کٹے ہوئے ہیں۔ ان میں کیوبا کے فیڈل کاسترو کے دور سے پہلے کے قرضے اور شمالی کوریا کے قرضے شامل ہیں۔

گزشتہ صدی میں 1980 کی دہائی کے اوائل سے سوڈان کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے۔ اس دوران دارفور کے حوالے سے خرطوم پر دو عشروں تک (2017 تک) امریکی پابندیاں عائد رہیں۔

ناقابل ادائیگی قرضوں ایک مالک نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "یہ ملک کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آگے کیا ہو گا۔ کس طرح کی حکومت یا سربراہ آئے گا اور صورت حال میں کس طرح پیش رفت ہو گی۔ ایک حقیقی تبدیلی کا امکان ہے تاہم معاملات بہتر ہونے میں کافی طویل وقت لگ سکتا ہے"۔

تجزیہ کاروں کے اندازے کے مطابق چار دہائیوں کے غیر ادا شدہ سود کے ساتھ مجموعی واجب الادا رقم کا حجم 8 ارب ڈالر ہے۔

سوڈان کئی برسوں سے بین الاقوامی مارکیٹوں سے دور ہے۔ امریکی حکومت نے فروری 2017 میں سوڈان پر سے اکثر پابندیاں اٹھا لی تھیں۔ تاہم واشنگٹن نے سوڈان کو دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست میں باقی رکھا۔ اس امر نے سوڈان کی معیشت کے گرد گھیرا تنگ کر رکھا ہے اور کمپنیوں کے لیے ڈالر میں لین دین قریبا ناممکن ہو گیا۔ اس طرح حکومت کے لیے بین الاقوامی مارکیٹوں تک رسائی اور فنڈنگ کے حصول کی راہ بھی مسدود نظر آ رہی ہے۔

صومالیہ کو چھوڑ کر سوڈان دنیا کا واحد ملک ہے جس پر عالمی مالیاتی فنڈ IMF کی واجب الادا رقم کا حجم اس بین الاقوامی ادارے کے مجموعی قرضوں کا 80 فی صد سے زیادہ ہے۔

آئی ایم ایف نے دسمبر 2017 میں اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ مقروض ترین غریب ممالک سے متعلق پروگرام کے تحت سوڈان قرضوں میں رعایت کا مستحق تھا۔ یہ پروگرام 1996 میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی جانب سے متعارف کرایا گیا تھا۔ پروگرام کا مقصد ان غریب ممالک کی مدد کرنا تھا جن کو اپنے بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں مشکل کا سامنا ہے۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ "2011 میں جنوبی سوڈان کی علاحدگی اور تیل کی پیداوار اور برآمدات کے بڑے حصے سے ہاتھ دھونے کے بعد سے سوڈان میں اقتصادی حالات ابتر ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں