ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا، برطانوی سفیر کاجلیاں والا باغ قتلِ عام پراظہارِافسوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت میں متعیّن برطانوی ہائی کمشنر ڈومنیک ایسکویتھ نے شمال مغربی شہر امرتسر میں سانحہ جلیاں والا باغ کی ایک صدی پوری ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک برطانوی کالونیل فوج کے ہاتھوں اس قتل عام پر افسوس کا اظہار کرتا رہے گا۔

وہ جلیاں والا باغ میں برطانوی فوج کی ہندوستانیوں پر اندھا دھند فائرنگ کے واقعے کی صدی تقریبات کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے۔ یادرہے کہ 13 اپریل 1919ء کو برطانوی فوجیوں نے جلیاں والا باغ میں ایک جلسے کے لیے جمع ہندوستانیوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں تین سو سےزیادہ افراد مارے گئے تھے اور بارہ سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے جبکہ بیسیوں افراد زندہ قریب واقع کنووں میں کود گئے تھے۔

مقتولین اور مجروحین میں مسلمان اور ہندو دونوں شامل تھے۔وہ انگریز سامراج سے آزادی کی مانگ کررہے تھے۔اس خونیں واقعے کے بعد غلام ہندوستان میں آزادی کی تحریک کو مہمیز ملی تھی اور قائدین تحریکِ آزادی بعد میں اپنی تقریروں میں اکثر برطانوی فوج کی اس سفاکیت کا حوالہ دیا کرتے تھے۔

چند سال قبل سابق برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے امرتسر میں سانحہ جلیاں والا باغ کی یادگار کا دورہ کیا تھا لیکن انھوں نے خون آشام انگریز فوج کے اس قتل عام کی معذرت سے انکار کردیا تھا۔اب کہ برطانوی ہائی کمشنر ڈومینک ایسکویتھ نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی سفاکیت اور الم ناکی آج بھی بہت شدید ہے۔

انھوں نے کہا: ’’ میں آپ سے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں یہاں جو کچھ کرنے آیا ہوں ، آپ اس کا احترام کریں۔میں سو سال قبل پیش آنے والے واقعے پر برطانوی حکومت اور برطانوی عوام کی جانب سے یہاں افسوس اور دکھ کا اظہار کرنے کے لیے آیا ہوں لیکن میں اپنے الفاظ کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ دونوں حکومتیں بہت مضبوط دوطرفہ تعلقات کے قیام کے لیے پُرعزم ہیں‘‘۔

برطانوی وزیراعظم تھریز امے نے بدھ کو ایک بیان میں اس قتلِ عام کو برطانوی ہند کی تاریخ میں ایک ’’بدنما داغ‘‘ قرار دیا تھا لیکن انھوں نے اس واقعے پر باضابطہ طور پر کوئی معذرت نہیں کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں