.

سوڈانی جماعتیں کسی آزاد شخصیت کا وزیراعظم کے عہدے کے لیے انتخاب کریں : فوجی کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی حکمراں عبوری فوجی کونسل نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک آزاد شخصیت کا عبوری وزیراعظم کے طور پر انتخاب کریں اور ایک سول حکومت تشکیل دیں۔

فوجی کونسل کے ارکان نےاتوار کو دارالحکومت خرطوم میں متعدد سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے ایک اجلاس منعقد کیا ہے۔اس موقع پر کونسل کے ایک رکن لیفٹیننٹ جنرل یاسر العطا نے کہا کہ ’’ ہم آزادی ، انصاف اور جمہوریت پر مبنی ایک شہری ریاست کا قیام چاہتے ہیں اور اس بات کے خواہاں ہیں کہ آپ ایک آزاد شخصیت کا وزیر اعظم کے عہدے کے لیے انتخاب کریں اور ایک سول حکومت کے قیام پر متفق ہوں‘‘۔

دریں اثناء معزول صدر عمر حسن البشیر کے خلاف احتجاجی تحریک کو منظم کرنے والے گروپ سوڈانی پروفیشنلز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ فوجی کونسل فوری طور پر ایک نئی سول حکومت کو اقتدار منتقل کردے اور یہ نئی حکومت معزول صدر اور ان کے ساتھیوں کا احتساب کرے۔

اس نے ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ ’’ آیندہ عبوری حکومت او ر مسلح افواج معزول صدر عمر البشیر اور نیشنل انٹیلی جنس اور سکیورٹی سروس کے تمام سربراہان کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں‘‘۔

دوسری جانب سوڈان کی وزارت خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کے نئے فوجی حکمرانوں کی ملک میں جمہوری انتقال اقتدار کے لیے حمایت کرے۔اس نے ایک بیان میں عالمی برادری سے کہا ہے کہ’’ وہ صورت حال کو سمجھے اور عبوری فوجی کونسل کی حمایت کرے تاکہ سوڈان میں جمہوری انتقالِ اقتدار کا مقصد حاصل کیا جاسکے‘‘۔

وزارت نے کہا ہے کہ ’’ 11 اپریل کو آزادی ، امن اور انصاف کے لیے عوام کی حمایت میں اقدامات کیے گئے تھے۔ فوجی کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان ایک مکمل سول حکومت کے قیام کے لیے پُرعزم ہیں اور کونسل کا کردار محض ملک کی خود مختاری کے تحفظ کے لیے ہوگا۔ انھوں نے ایک آزاد عدلیہ کے لیے پختہ عزم کیا ہے اور وہ سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو ملک میں پُرامن انتقال اقتدار کے لیے ایک ساز گار ماحول مہیا کرنا چاہتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان عبدالرحمان نے جمعہ کو سوڈان کی عبوری فوجی کونسل کے نئے سربراہ کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔ انھوں نے ہفتے کے روز اپنے پہلے نشری خطاب میں کہا تھا کہ حزبِ اختلاف کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک سول حکومت قائم کی جائے گی۔انھوں نے وعدہ کیا کہ عبوری دور زیادہ سے زیادہ دو سال کے لیے ہوگا۔انھوں نے اپنے پیش رو وزیر داخلہ عوض بن عوف کے نافذ کردہ کرفیو کی تنسیخ کا اعلان کیا تھا اور انھوں نے معزول صدر عمر حسن البشیر کے نافذ کردہ ہنگامی حالت کے قانون کے تحت گرفتار کیے گئے تمام قیدیوں کو بھی رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔