.

لیبی حکومت کی فورسز نے طرابلس کے نزدیک خلیفہ حفتر کی فوج کا لڑاکا جیٹ مارگرایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے وزیر اعظم فایز السراج کے زیر قیادت قومی اتحاد کی حکومت کی فورسز نے کمانڈر خلیفہ حفتر کے زیر کمان فورسز کا ایک لڑاکا جیٹ دارالحکومت طرابلس کے نواح میں مارگرایا ہے۔

قومی حکومت کے ترجمان محمد غنونو نے اتوار ایک بیان میں لیبی آرمی کی فورسز کی کاررروائی میں ’دشمن‘ کا لڑاکا طیارہ مار گرانے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ’’وہ اس وقت وادی الربیع کے علاقے میں فضائی حملے کی تیاری کررہا تھا‘‘۔

لیبیا کے مشرقی علاقے میں قابض خلیفہ حفتر کے زیر کمان فورسز نے اسی ماہ کے اوائل میں طرابلس کو مفتوح بنانے کے لیے چڑھائی کی تھی اور اس وقت ان کی وفادار ملیشیا ؤں اور قومی اتحاد کی حکومت کے تحت فورسز کے درمیان لڑائی ہورہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ طرابلس کے نواح میں متحارب گروپوں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں 121 افراد ہلاک اور 561 زخمی ہوچکے ہیں۔

مختلف عالمی رہ نماؤں نےخلیفہ حفتر سے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ قومی حکومت کی وفادار فورسز کے خلاف لڑائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن انھوں نے اس عالمی مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔خلیفہ حفتر لیبیا کے مشرق میں قائم ایک متوازی حکومت کی حمایت کررہے ہیں اور یہ حکومت ان کی حمایت کی بدولت ہی اب تک کھڑی ہے۔

75 سالہ خلیفہ حفتر لیبیا کے مقتول صدر معمر قذافی کی فوج میں جنرل تھے۔ کوئی دو عشرے تک امریکا میں جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے تھے اور وہ 2011ء میں لیبیا لوٹے تھے۔ انھوں نے اس سال کے اوائل میں اپنے فوجیوں کو ملک کے مشرقی علاقے سے جنوب میں واقع صحرائی علاقے پر چڑھائی کا حکم دیا تھا اور پھر انھیں اپریل کے اوائل میں طرابلس کی جانب پیش قدمی کا حکم دے دیا تھا۔

لیکن وزیراعظم فایز السراج کے تحت قومی اتحاد کی حکومت حفتر فورسز کی پیش قدمی کو روکنے میں کامیاب رہی ہے ۔ان کی فورسزمشین گنوں سے مسلح ہیں اور انھوں نے طرابلس کی جانب آنے والی شاہراہ کو لوہے کے کنٹینروں سے بند کردیا ہے۔