.

مصری صدر سے خلیفہ حفترکی ملاقات ،لیبیا میں دہشت گردی مخالف کارروائی کی حمایت کا اعادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی قومی فوج کے خود ساختہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر نے قاہرہ میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی ہے۔مصری ایوان صدر کے ایک بیان کے مطابق صدر السیسی نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے مصر کی جانب سے دہشت گرد اور انتہا پسند ملیشیاؤں سے نمٹنے کے لیے کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا ہے تاکہ لیبیا بھر میں شہریوں کے لیے سلامتی اورا ستحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔

انھوں نے لیبیا کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے جہاں خلیفہ حفتر کے تحت قومی فوج نے دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے قومی اتحاد کی حکومت کے تحت فورسز کے خلاف نبرد آزما ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ طرابلس کے نواح میں متحارب گروپوں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں 121 افراد ہلاک اور 561 زخمی ہوچکے ہیں۔

مختلف عالمی رہ نماؤں نےخلیفہ حفتر سے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ قومی اتحاد کی حکومت کی وفادار فورسز کے خلاف کارروائی کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن انھوں نے اس عالمی مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔خلیفہ حفتر لیبیا کے مشرق میں قائم ایک متوازی حکومت کی حمایت کررہے ہیں۔

مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے اسی ماہ کے اوائل میں روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے بات چیت کے بعد قاہرہ میں نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ لیبیا میں جاری تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔روسی وزیر خارجہ نے بھی لیبیا کے تمام فریقوں کے درمیان سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

واضح رہے کہ خلیفہ حفتر کوئی دو عشرے تک امریکا میں جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے تھے اور وہ 2011ء میں لیبیا لوٹے تھے۔ انھوں نے سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے خلاف مسلح بغاوت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انھوں نے انقلابی فورسز کی کمان کی تھی۔امریکا کی قیادت میں نیٹو فورسز کی فضائی کارروائی کے نتیجے میں معمر قذافی کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے تھے اور مسلح ملیشیاؤں نے انھیں بے دردی سے قتل کردیا تھا۔