.

شام : دیر الزور میں "ایرانی پاسداران انقلاب "کے نئے بھرتی مراکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب نے شام کے صوبے دیر الزور کے کئی دیہی علاقوں میں اپنے بھرتی مراکز قائم کر کے اپنی صفوں میں مزید شامیوں کو شامل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

دیر الزور کے مذکورہ علاقے شامی حکومت کی فورسز کے زیر کنٹرول ہیں جس کے سبب ایرانیوں کی جانب سے یہاں بھرتی مراکز قائم کرنے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ تہران کے نزدیک اس کی عراق سے خشکی کے راستے آنے والی گزر گاہ ان علاقوں کے راستے لبنان تک پہنچتی ہے۔

ایرانی بھرتی مراکز علاقے کے نوجوانوں کا استحصال کرتے ہوئے انہیں ایرانی پاسداران انقلاب کی صفوں میں شامل کرتی ہیں۔ پاسداران انقلاب کو ان علاقوں میں بشار حکومت کے زیر انتظام کسی بھی دوسرے گروپ سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں۔ اس وجہ سے نوجوانوں کو اس میں شمولیت اختیار کرنے میں اضافی کشش نظر آتی ہے۔

دیر الزور میں دو شہر البوکمال اور المیادین پاسداران کے دفاتر کے گڑھ شمار ہوتے ہیں۔ پاسداران انقلاب کی صفوں میں شمولیت کے لیے شرط ہوتی ہے کہ یہ نوجوان پہلے "شیعہ" مذہب اختیار کریں۔ اس کے بعد انہیں ماہانہ 150 امریکی ڈالر کی تنخواہ پر بھرتی کیا جاتا ہے۔ شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کے مطابق تنخواہ کے علاوہ ان نوجوانوں کو غذائی اشیاء اور اسکولوں کے لوازمات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

المرصد کے مطابق ایران نے المیادین شہر کو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے ہیڈکوارٹر کے طور پر منتخب کیا۔ ان میں اولین سبب یہاں کی آبادی کو واپس آنے سے روکنا ہے۔ ایران مذہبی، نسلی اور ثقافتی لحاظ سے اس شہر کی حیثیت کو جانتا ہے جس کے لوگ فارسیوں کے خلاف تاریخی معرکوں میں شریک ہو چکے ہیں۔

اس طرح دیر الزور کے نوجوانوں میں "شیعیت" کا رجحان بڑھتا نظر آ رہا ہے۔ علاقے کے بعض صحافیوں کے مطابق ان میں بعض نوجوان اس واسطے پاسداران میں شمولیت اختیار کرتے ہیں تا کہ انہیں بشار حکومت کے کریک ڈاؤن سے نجات مل سکے۔

مذکورہ صحافیوں نے اپنی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے بتایا کہ ان نوجوانوں کو کئی مراحل کے ذریعے "شیعہ" مذہب کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس دوران انہیں پاسداران انقلاب کی جانب سے مکمل تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق دیر الزور اور اس کے دیہی علاقوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام بھرتی مراکز کی تعداد 25 سے تجاوز کر چکی ہے۔

دیر الزور صوبے میں بعض عرب قبائل اعلانیہ طور پر ایران کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ان میں "البقارہ" قبیلہ سرفہرست ہے جس کے سربراہ شيخ نواف راغب البشير ہیں۔ وہ چند برس قبل بشار حکومت کی مخالفت سے یُو ٹرن لینے کے بعد شام واپس آ گئے تھے۔

سیرین ڈیموکریٹک کونسل ایران پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ "کمزور نفوس" کو خرید رہا ہے۔ کونسل کا اشارہ شامی اراضی پر ایرانی پھیلاؤ کے ہمنوا قبائل کے عمائدین کی جانب تھا۔