.

'خلیفہ حفتر فوج کی طرابلس پر سات محاذوں سے چڑھائی'

فوجی کارروائی چوبیس گھنٹے کی بنیاد پرجاری ہے:المسماری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر کی فوج اور قومی وفاق حکومت کی فورسز کے درمیان طرابلس میں گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ جنرل حفتر کی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمدالمسماری نے کہا ہے کہ طرابلس کا گھیرائو کرلیا گیا ہے اور فوج سات محاذوں سے دارالحکومت پر حملہ آور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طرابلس کو دہشت گردوں سے آزاد کرانے کے لیے چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر آپریشن جاری ہے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں جنرل المسماری کا کہناتھا کہ بری فوج سات محاذوں سے طرابلس کی طرف پیش قدمی کررہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق دارالحکومت طرابلس میں عین زارہ اور تاجورہ کےمقامات پر لڑائی جاری ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ان دونوں‌مقامات پر سرکاری فوج شہری آبادی میں بہتر انداز میں پیش قدمی کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں شہریوں کے خلاف کسی غیرقانونی کارروائی کاکوئی ثبوت نہیں ملا ہےاورفوج شہری آبادی کو مکمل تحفظ فراہم کررہی ہے۔

جنرل خلیفہ حفتر کی فوج صلاح الدین اور ہوائی اڈے کی اطراف سے بھی پیش قدمی جاری ہے۔ توقع ہے کہ جلدہی طرابلس کے شدت پسندوں کی مرکزی سپلائی لائن کاٹ دی جائے گی۔

جنرل المسماری نے مزید کہا کہ ہفتے اور اتوار کے روز سرکاری فوج نے طرابلس میں دہشت گردوں کےٹھکانوں پر کامیاب حملے کیے اور عسکریت پسندوں کے اسلحہ کے کئی ذخائر تباہ کردیے گئے۔

ادھرلیبیا کے وزیر اعظم فایز السراج کے زیر قیادت قومی اتحاد کی حکومت کی فورسز نے کمانڈر خلیفہ حفتر کے زیر کمان فورسز کا ایک لڑاکا جیٹ دارالحکومت طرابلس کے نواح میں مارگرایا ہے۔

قومی حکومت کے ترجمان محمد غنونو نے اتوار ایک بیان میں لیبی آرمی کی فورسز کی کاررروائی میں ’دشمن‘ کا لڑاکا طیارہ مار گرانے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ’’وہ اس وقت وادی الربیع کے علاقے میں فضائی حملے کی تیاری کررہا تھا‘‘۔

لیبیا کے مشرقی علاقے میں قابض خلیفہ حفتر کے زیر کمان فورسز نے اسی ماہ کے اوائل میں طرابلس کو مفتوح بنانے کے لیے چڑھائی کی تھی اور اس وقت ان کی وفادار ملیشیا ؤں اور قومی اتحاد کی حکومت کے تحت فورسز کے درمیان لڑائی ہورہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ طرابلس کے نواح میں متحارب گروپوں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں 121 افراد ہلاک اور 561 زخمی ہوچکے ہیں۔

مختلف عالمی رہ نماؤں نےخلیفہ حفتر سے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ قومی حکومت کی وفادار فورسز کے خلاف لڑائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن انھوں نے اس عالمی مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔خلیفہ حفتر لیبیا کے مشرق میں قائم ایک متوازی حکومت کی حمایت کررہے ہیں اور یہ حکومت ان کی حمایت کی بدولت ہی اب تک کھڑی ہے۔