.

رستم قاسمی : ایران پر پابندیوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرنے والے بریگیڈئیر جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے خصوصی ایلچی برائے ایران برائن ہُک نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ ایران سے تیل خرید کرنے والے آٹھ ممالک کو مئی کے بعد کوئی استثنا نہیں دیا جائے گا۔یہ ممالک اس وقت ایران سے تیل درآمد کررہے ہیں اور ان پر امریکی پابندیاں کا اطلاق نہیں ہوتا۔مسٹر ہُک کا کہنا ہے کہ ایران پر اس کے جارحانہ کردار اور دہشت گردی کی حمایت کے ردعمل میں مزید پابندیاں عاید کی جارہی ہیں۔

تیل ایران کی بنیادی برآمدات میں سے ایک ہے۔یہ اس کی آمد ن کا بڑا ذریعہ ہے اور وہ اس کو اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صرف کرتا ہے مگر اب امریکی حکام کے بیانات کے مطابق ایران گیس اور تیل سے حاصل ہونے والی آمدن سے مکمل طور پر محروم ہوسکتا ہے۔

اس وقت ایرانی رجیم امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچاؤ کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے اور اس کی پابندیوں سے بچاؤ کی کارروائیوں میں مرکزی کردار ایران کے ایک اعلیٰ جنرل رستم قاسمی ادا کررہے ہیں۔انھوں نے ماضی میں بھی بابک زنجانی نام کی ایک شخصیت کو آلہ کار کے طور پر استعمال کیا تھا ۔زنجانی نے ایرانی حکومت کو اپنی خدمات پیش کی تھیں۔ ان کی بدولت ایران عالمی مارکیٹ میں اپنا تیل فروخت کرتارہا تھا اور اس طرح پابندیوں کے عروج کے زمانے میں بھی ایران تیل سے آمدن کے حصول میں کامیاب رہا تھا۔ انھوں نے یہ تمام کام منی لانڈرنگ کے ذریعے انجام دیا تھا۔

بابک زنجانی کون ہے؟

بابک زنجانی نے 2013ء میں فارسی زبان کے ہفت روزہ آسمان سے انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ایران کے سابق گورنر محسن نوربخش کے ڈرائیور کے طور پر کام کرتے رہے تھے لیکن وہ راتوں رات ارب پتی بن گئے تھے۔ وہ 60 بڑے کاروباروں کے مالک بن بیٹھے تھے۔ان میں بنک ، سرمایہ کار کمپنیوں اور فضائی کمپنیوں کی ملکیت یا مکمل حصص بھی شامل ہیں۔

بابک زنجانی سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی حکومت کی جانب سے اپنے اثاثوں کو استعمال کرتے ہوئے تیل فروخت کرتے رہے تھے۔اس طرح انھوں نے ایران پر عاید امریکا اور یورپی یونین کی پابندیوں کو بائی پاس کرنے میں مدد کی تھی۔

ایران کے ایک سابق رکن پارلیمان امیر عباس سلطانی کے مطابق 2012ء کے اوائل میں زنجانی کا احمدی نژاد کی کابینہ کے چار وزراء سے ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔انھوں نے ان کے علاوہ ایران کے مرکزی بنک کے گورنر محمود بہمنی کے ساتھ بھی سمجھوتا طے کیا تھا اور انھیں کسی قسم کی ضمانتوں کے بغیر بارہ ٹھیکے دے دیے گئے تھے۔سلطان کا کہنا تھا کہ ’’ان ٹھیکوں کی مالیت چار ارب دس کروڑ ڈالرز تھی لیکن ان میں سے دو ارب ستر کروڑ ڈالرز کہاں صرف کیے گئے ،اس کے بارے میں ہمیں آج تک کوئی خبر نہیں ہے‘‘۔

بابک زنجانی کو بعد میں اپنے آمدن کے ذرائع نہ بتانے پر گرفتار کر لیا گیا تھا اور ایک ایرانی عدالت نے انھیں مالی بدعنوانیوں پر سزائے موت سنائی تھی لیکن اس حکم پر ابھی تک عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے اور وہ اس وقت جیل ہی میں قید ہیں۔اب ایران کو ایک مرتبہ پھر ان کی مہارت کی ضرورت ہے اور اس پرامریکا کی سخت پابندیوں کے توڑ میں وہ ایک مرتبہ پھر بروئے کار ہوسکتے ہیں۔

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بابک زنجانی ایک عام ملازم سے ارب پتی کیسے بنے تھے؟اس کے پیچھے ایک لمبی کہانی اور سپاہ پاسداران انقلاب کارفرما ہے۔انھوں نے 2010ء میں پاسداران انقلاب سے وابستہ خاتم الانبیاء کنسٹرکشن ہیڈ کوارٹرز سے تعلق رکھنے والی سرکایہ کار کمپنی غدیر سے شراکت داری قائم کی تھی۔زنجانی کے بہ قول ’’یہ کمپنی اشیاء خرید کرتی تھی لیکن ان کے لیے رقوم کی ادا ئی نہیں کرسکتی تھی ۔اس لیے میں نے مداخلت کی اور اس کی جانب سے ادائی شروع کردی ۔ ایک روز خاتم الانبیاء نے مجھے کہا کہ مسٹر رستم قاسمی آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔جب میں ان سے ملنے گیا تو وہ یوں گویا ہوئے کہ’’ میں نے آپ کا کام دیکھا ہے ، ہمیں آپ کی ضرورت ہے‘‘۔ پھر قاسمی نے زنجانی کو اپنے کام کے لیے بھرتی کرلیا۔

رستم قاسمی نے 1979ء میں سپاہِ پاسداران انقلاب میں شمولیت اختیار کی تھی۔انھوں نے ایران کی عراق کے خلاف 1980ء سے 1988ء تک لڑی گئی جنگ میں حصہ لیا تھا ۔پھر وہ خاتم الانبیاء تعمیراتی کمپنی کا حصہ بن گئے تھے۔یہ کمپنی ایران کے شہری ڈھانچے (انفرااسٹرکچر )کی بحالی کے لیے قائم کی گئی تھی۔انھیں 2007ء میں اس کا چئیرمین بنا دیا گیا تھا۔بعد میں وہ سابق صدر محمود احمدی نژاد کی کابینہ میں وزیر تیل رہے تھے۔2013ء میں جریدے فارن پالیسی نے انھیں دنیا کی پانچ سو طاقتور شخصیات میں شمار کیا تھا لیکن اس ’’ اعزاز‘‘ سے قبل ہی امریکا کے محکمہ خزانہ نے ان پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔

لیکن رستم قاسمی امریکی پابندیوں کے بعد خاموش نہیں بیٹھے اور انھوں نے اپنے ملک پر عاید قدغنوں کے اثرات کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔اس مقصد کے لیے انھوں نے شامی صدر بشارالاسد سے متعدد ملاقاتیں کی تھیں ۔شامی حکومت نے ایرانی تیل کے عوض پاسداران انقلاب کی القدس فورس کو کروڑوں ڈالرز منتقل کیے تھے۔پھر یہ رقم حماس اور حزب اللہ کو منتقل کی گئی تھی۔

جون 2014ء میں انھوں نے شام کو ساڑھے چار ارب ڈالرز مہیا کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور وہ اس رقم سے پیٹرو کیمیکلز کی مصنوعات کی خرید کے قابل ہوا تھا۔انھوں نے جنوری 2015ء میں شام کا دورہ کیا تھا اور شامی رجیم کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ امریکی پابندیوں کے باوجود ایران شام کو تیل مہیا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

رستم قاسمی عراق اور یمن میں بالترتیب شیعہ ملیشیاؤں اور حوثی شیعہ باغیوں کے ساتھ متحرک رہے ہیں ۔28 اپریل 2015ء کو عرب اتحاد کے ترجمان نے اطلاع دی تھی کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے صنعاء میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رن وے پر بمباری کی تھی تاکہ ایک ایرانی طیارے کو وہاں اترنے سے روکا جاسکے۔انھوں نے بعد میں ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ ایرانیوں کے ایک گروپ کے ہمراہ صنعاء جارہے تھے۔

ایرانی عہدے دار امریکی پابندیاں سے بچاؤ کی کارروائیوں کو ایک ’’کارِ خیر‘‘ قرار دیتے ہیں لیکن اس کار خیر کے دوران میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں بھی ہوتی ہیں اور معمولی ڈرائیور راتوں رات ارب پتی بن جاتے ہیں جس پر چہ مگوئیاں ہوتی رہتی ہیں۔