.

سوڈان:سابق حکومتی عہدیداروں کی برطرفیاں جاری، پراسیکیوٹر جنرل بھی سبکدوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں سابق معزول صدرعمرالبشیرکی حکومت میں اعلیٰ عہدوں پرتعینات شخصیات کا عزل ونصب جاری ہے۔ اطلاعات کےبعد گذشتہ روز صدر البشیر کے دور میں تعینات پراسیکیوٹر جنرل اور ان کےمعاونین کو برطرف کردیا گیا۔

سوڈان کی عبوری عسکری کونسل کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہاگہا ہےکہ کونسل کے چیئرمین لفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے پراسیکیوٹر جنرل عمر عبدالسلام اور ان کےدو معاونین کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔
ادھر عبوری کونسل نے خرطوم ریاست کا گورنر تبدیل کرتے ہوئے جنرل مرتضی عبداللہ کو ریاست کا نیا گورنر تعینات کیا ہے۔

دوسری جانب خرطوم میں کل منگل کے روز بھی فوج کے کمان ہیڈ کواٹر کے باہر مظاہرین کا دھرنا جاری رہا۔ مظاہرین کےدیگر مطالبات میں اہم ترین مطالبہ سابق دور حکومت میں شہریوں کے قتل عام میں ملوث عناصر کا محاسبہ بھی شامل ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج جاری رکھیں‌گے اور کسی کو پرامن انقلاب کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔
خرطوم میں منگل کے روز ڈاکٹروں کی جانب سے بھی ایک ریلی نکالی گئی جس میں دارفورمیں قید علاحدگی پسندی کی تحریک کے دوران غیر جانب دار رہنے والے تمام افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیاگیا۔

بعض شہریوں‌نے شکایت کی دھرنا دینے والے شہریوں کو پراسرار طور پرغائب کیا جا رہا ہے۔ نامعلوم افراد کی جانب سے کئی کارکنوں کو اغواء کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

سوموار کو مظاہرین نے سابق دور حکومت کے تمام ادارے ختم کرنے، چیف جسٹس اور پراسیکیوٹر جنرل کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔