.

ٹرمپ نے یمن میں عرب اتحاد کی سپورٹ ختم کرنے سے متعلق قرار داد ویٹو کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کی اُس قرار داد کے خلاف ویٹو کا حق استعمال کیا ہے جس میں یمن میں سرگرم عرب اتحاد کو عسکری سپورٹ کی فراہمی ختم کر دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

ٹرمپ نے کانگریس کی قرارداد کے متعلق کہا کہ "یہ میرے آئینی اختیارات کو کمزور کرنے کے لیے ایک غیر ضروری اور خطر ناک کوشش ہے۔ اس سے امریکی شہریوں اور فوجیوں کی جانیں فی الوقت اور مستقبل میں خطرے میں پڑ جائیں گی"۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی سپورٹ ضروری ہے تا کہ عرب اتحاد کے اُن بعض ممالک میں رہنے والے 80 ہزار سے زیادہ امریکیوں کی حفاظت ہو سکے جن کو یمن میں موجود حوثیوں کی جانب سے حملوں کا خطرہ درپیش ہے۔

امریکی صدر نے منظوری کے بغیر کانگریس کی قرارداد واپس بھیج دی۔ اس اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا محدود پیمانے پر عرب اتحاد کو سپورٹ پیش کر رہا ہے جس میں انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور لوجسٹک سپورٹ شامل ہے۔

ٹرمپ کے مطابق حوثی باغی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے عرب اتحاد کے ممالک میں رہنے والے امریکیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے باور کرایا کہ ایران پر روک لگانا ضروری ہے جو یمن میں تہران کی جنگ کے سبب امریکا کی پریشانیوں کا سبب بن رہا ہے۔

کانگریس کے دونوں ایوانوں نے دو ہفتے سے بھی زیادہ عرصہ قبل یمن میں عرب اتحاد کی سپورٹ روک دینے کی قرار داد منظور کی تھی۔ اس وقت امریکی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ یہ قرار داد حوثیوں اور ایران کو تقویت پہنچائے گی اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو سبوتاژ کر دے گی۔