.

یوگنڈا معزول سوڈانی صدر عمر حسن البشیر کو سیاسی پناہ دینے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوگنڈا نے سوڈان کے معزول صدر عمر حسن البشیر کو سیاسی پناہ دینے کی پیش کش کردی ہے اور اس نے کہا ہے کہ وہ عالمی فوجداری عدالت(آئی سی سی) کے عمرحسن البشیر کے خلاف وارنٹ گرفتاری کے باوجود انھیں پناہ دینے پر غور کرے گا۔

یوگنڈا کے وزیر مملکت برائے امورِ خارجہ اوکیلو اوریم نے دارالحکومت کمپالا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ یوگنڈا عمر البشیر کی پناہ کے لیے درخواست پر غور کرنے کے بارے میں کوئی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرے گا‘‘۔

75 سالہ عمر البشیر 30 سال تک سوڈان میں برسراقتدار رہے تھے۔انھوں نے ایک منتخب حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد 1989ء میں اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور انھیں بھی عوامی احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں فوج نے گذشتہ ہفتے معزول کرکے چلتا کیا ہے ۔انھیں پہلے ایک صدارتی محل میں زیر حراست رکھا گیا تھا اور بدھ کو دارالحکومت خرطوم کی ایک جیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔

اوریم کا کہنا تھا کہ عمر البشیر نے ابھی کمپالا سے سیاسی پناہ کے لیے رجوع نہیں کیا ہے لیکن اگر وہ ایسی کوئی درخواست دیتے ہیں تو اس پر غور کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ہیگ میں قائم آئی سی سی نے 2009؁ اور 2010؁ میں معزول سوڈانی صدر عمر حسن البشیر کے خلاف سوڈان کے صوبے دارفور میں جنگی جرائم ، انسانیت مخالف جرائم اور نسل کشی کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ابھی تک یوگنڈا کی جانب سے انھیں پناہ دینے کی پیش کش کے ردعمل میں آئی سی سی نے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ یوگنڈا بھی آئی سی سی کا رکن ملک ہے اور روم معاہدے پر دست خط کرنے والے تمام ممالک عدالت کو مطلوب افراد کو گرفتار کرکے ہیگ کے حوالے کرنے کے پابند ہیں۔

سوڈان آئی سی سی کا رکن ملک نہیں ہے ۔اس لیے یہ عدالت اس ملک میں از خود جنگی جرائم کی تحقیقات نہیں کرسکتی ہے۔یادرہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مارچ 2005؁ میں اس بین الاقوامی عدالت کو سوڈان میں انسانیت مخالف جرائم ، نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات کی تحقیقات کا معاملہ بھیجا تھا۔سلامتی کونسل کو آئی سی سی کے ساتھ تعاون میں ناکام رہنے والے ممالک پر پابندیاں عاید کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

معزول سوڈانی صدر اپنے دورِ اقتدار میں دوسرے ممالک کے دورے کرتے رہے تھے لیکن انھیں کسی ملک نے حراست میں لے کر آئی سی سی کے حوالے نہیں کیا تھا۔انھوں نے شام ، اردن اور جنوبی افریقا کے دورے کیے تھے۔انھوں نے 2015؁ میں جنوبی افریقا کا دورہ کیا تھا تو انھیں اس کی حکومت نے گرفتار نہیں کیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اگر (تب) صدر بشیر کو گرفتار کیا جاتا تو یہ اقدام انھیں سربراہ ریاست کی حیثیت سے حاصل استثنا کی خلاف ورزی ہوتا ۔ اس دلیل کو جنوبی افریقا کی عدالتوں اور آئی سی سی نے مسترد کردیا تھا۔

واضح رہے کہ سوڈان نے 2009ء میں آئی سی سی کی جانب سے صدر عمر حسن البشیر کے خلاف دارفور میں انسانیت مخالف جرائم کے الزام میں وارنٹ گرفتاری کے اجرا کے بعد متعدد غیرملکی امدادی ایجنسیوں کو بے دخل کردیا تھا۔سوڈان نے ان تنظیموں پر الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے صدر بشیر کے خلاف فرد ِجرم کی تیاری میں آئی سی سی کی معاونت کی تھی۔