.

لیبیا : خلیفہ حفتر کی وفادار فوج کے زیر قبضہ ائیر بیس پر مسلح گروپ کا حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے جنوبی شہر سبھا کے نزدیک کمانڈر خلیفہ حفتر کی وفادار فوج کے زیر قبضہ بڑے فوجی اڈے پر ایک مسلح گروپ نے حملہ کیا ہے اور اس کے بعد سے حملہ آوروں اور لیبی قومی فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

مشرقی لیبیا کے ایک فوجی عہدہ دار میجر حامد رافع الخیالی نے جنوبی شہر سبھا کے نزدیک واقع تمنہنت کے فوجی اڈے پر مسلح افراد کے حملے اور اس کے بعد لڑائی کی تصدیق کی ہے۔تاہم انھوں نے مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے اور فوری طور پر حملہ آوروں کی شناخت بھی معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

خلیفہ حفتر کے زیر کمان لیبی قومی فوج نے اس سال کے اوائل ہی میں صحرائی علاقے میں واقع اس فوجی اڈے پر قبضہ کیا تھا اور وہاں مسلح قبائلیوں کا بھی بڑا اثر ورسوخ ہے لیکن وہ اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔

لیبیا کے مشرقی علاقوں پر قابض خود ساختہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے زیر کمان لیبی قومی فوج نے 3 اپریل کو ملک کے شمال میں واقع دارالحکومت طرابلس کو مفتوح بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے تحت فورسز کے خلاف چڑھائی کر دی تھی۔ اس کے بعد سے دارالحکومت کے نواح میں لڑائی جاری ہے اور خانہ جنگی کا شکار ملک میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ طرابلس کے نواح میں گذشتہ دو ہفتے کے دوران میں متحارب ملیشیاؤں کے درمیان جاری لڑائی کے نتیجے میں 205 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں 18 عام شہری بھی شامل ہیں اور 913 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک مجوزہ قرارداد میں لیبیا میں جنگ آزما تمام متحارب فریقوں سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ملک میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے مذاکرات کریں ۔اس قرارداد کا مسودہ برطانیہ نے تیار کیا ہے اور اس کو اگلے روز سلامتی کونسل کے رکن ممالک میں تقسیم کیا گیا تھا ۔

اس میں لیبیا کے تمام فریقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی ثالثی میں سیاسی مکالمے میں شرکت کا عزم ظاہر کریں اور ملک میں جاری بحران کے جامع سیاسی حل کے لیے کام کریں۔مجوزہ مسودے میں لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے نواح میں فوجی سرگرمی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس یلغار سے لیبیا کے استحکام ، مجوزہ قومی مکالمے اور بحران کے سیاسی حل کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں اور اس کے انتہائی سنگین انسانی اثرات مرتب ہوں گے۔