.

اقوام متحدہ نے لیبیا سے مہاجرین کی منتقلی کا عمل شروع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ لیبیا سے 163 مہاجرین کو ہمسایہ ملک نائجیر میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ 3000 کے قریب دیگر مہاجرین ابھی تک حراستی مراکز میں قید ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین کے مطابق طرابلس میں جاری جارحیت کے بعد مہاجرین کی منتقلی کا یہ پہلا مرحلہ ہے۔

اقوام متحدہ کی مہاجرین ایجنسی کے سربراہ فیلیپو گرانڈی کے مطابق "لیبیا میں جاری صورتحال کے بعد ایجنسی کی جانب سے مہاجرین کی منتقلی کا عمل لیبی جیلوں میں مقید مہاجرین کے لئے غیبی امداد سے کم نہیں۔"

اقوام متحدہ کی جانب سے یہ آپریشن اس موقع پر کیا گیا جب لیبیا کی مشرقی فورسز کے کمانڈر جنرل خلیفہ حفتر کی وفادار فورسز اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فورسز کے درمیان دارالحکومت کا کنٹرول سنبھالنے کے لئے نئی کشمکش شروع ہوگئی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق لیبیا میں اس نئی جارحیت کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 900 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق لیبی خانہ جنگی کے نتیجے میں 25000 افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

نائیجر پہنچنے والے مہاجرین میں درجنوں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان تمام افراد کو حراستی مراکز سے بحفاظت نکال کر لیبیا سے باہر منتقل کیا گیا ہے۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق متعدد حراستی مراکز میں قید 539 مہاجرین کو منتقل کردیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق ابھی بھی تنازعے کے علاقے میں 3000 کے قریب مہاجرین قید ہیں جن کے لئے تمام کوششیں جاری ہیں۔

اس موقع پر فیلیپو گرانڈی نے نائیجر کی جانب سے مہاجرین کی میزبانی کا خیر مقدم کیا اور دوسرے ممالک پر زور دیا کہ وہ بھی نائیجر کی مثال پر چلتے ہوئے مہاجرین سے اظہار یکجہتی کریں۔