.

مصر: آئینی ترامیم پر عوامی ریفرینڈم، صدارتی مدت میں توسیع متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں صدارتی نظام کی مدت کے حوالے موجود آئینی شقوں میں ترامیم کے لئے تین دن پر مشتمل ریفرینڈم کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ان ترامیم کی منظوری کے نتیجے میں صدر عبدالفتاح السیسی 2030 تک مسند صدارت پر براجمان رہ سکیں گے۔


ان ترامیم کو پارلیمان نے رواں ہفتے ہی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کیا تھا۔

آئین میں کیا اہم تبدیلیاں ہیں؟

مصری آئین میں پہلی ترمیم کے مطابق صدارتی عہدے کی مدت کو چار سال سے بڑھا کر چھ سال کر دیا گیا ہے۔ دوسری ترمیم میں کسی بھی صدر پر دو سے زائد بار منتخب ہونے پر پابندی میں ترمیم کرتے ہوئے کسی بھی صدر کو مسلسل تیسری بار منتخب ہونے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

ایک اور ترمیم کے ذریعے سے صدر السیسی کی موجود مدت صدارت کو چھ سال تک بڑھا دیا گیا ہے اور انہیں 2024 میں تیسری بار عہدہ صدارت کے لئے انتخاب لڑنے کا اہل قرار دیا گیا ہے۔

مصری آئین کے آرٹیکل 200 میں بھی ترمیم کی جارہی ہے جس کے مطابق فوج کے کردار میں توسیع کرتے ہوئے اسے آئین اور مفاد عامہ کی حفاظت کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔

ایک ترمیم کے ذریعے سے مصری نظام میں نائب صدر کا عہدہ بنایا گیا ہے۔ ریاست کا سربراہ یعنی صدر مملکت ایک یا اس سے زیادہ نائب صدور کا تعیناتی کر سکتا ہے۔

آئینی ترامیم میں خواتین کے حقوق کی ترجمانی کرتے ہوئے پارلیمان میں خواتین کی نمائندگی کا کوٹہ کم ازکم 25 فیصد کردیا گیا ہے۔

ان ترامیم کے پشت پر کون؟

ان ترامیم کو حمایت مصر نامی ایک حکومت نواز پارلیمانی بلاک نے متعارف کروایا تھا اور پارلیمان کی قانون ساز کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مصری پارلیمنٹ کے 155 ممبران نے ان ترامیم کو پیش کیا تھا۔

اس سے قبل رواں ہفتے کے دوران ان ترامیم پر پارلیمانی ووٹںگ میں 596 میں سے 531 ارکان پارلیمنٹ نے ان کے حق میں ووٹ دیا۔

ترامیم کی مخالفت

مصری قانون ساز کمیٹی نے ان ترامیم کی مخالفت کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان ترامیم کی عدلیہ کے کچھ ممبران اور دو غیر سرکاری تنظیموں نے مخالفت کی تھی۔ اس کے علاوہ 22 ارکان پارلیمنٹ نے ان ترامیم کے خلاف ووٹ دیا۔