.

وزیراعظم فائز السراج کے حکم پرچاڈ کے مسلح‌ گروپ نے ایئربیس پر قبضہ کیا :المسماری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی سرکاری فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے الزام عاید کیا ہے کہ قومی اتحاد حکومت کے سربراہ فائز السراج نے چاڈ کےایک مسلح گروپ کو 'تمنھنت' فضائی اڈے پر قبضےکے لیے استعمال کرنے کا حکم دیا تھا۔

العربیہ کے مطابق لیبیا کی فوج کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں‌بتایا کہ سرکاری فوج نے طرابلس کو دہشت گردوں سےچھڑانے کےلیے آپریشن میں مزید پیش قدمی ہے اور دارالحکومت کی مشرقی سمت سے مزید بڑی تعداد میں فوج اندر چلی گئی ہے۔

انہوں‌نے کہاکہ طرابلس کی لڑائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہاں‌پر قابض دہشت گرد تنظیموں کو کچل نہیں دیا جاتا۔ انہوں‌نے انکشاف کیا کہ طرابلس کے قبائل دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل المسماری کاکہنا تھا کہ دہشت گردوں نے طرابلس میں پناہ لے رکھی ہے اور وہ سوشل میڈیا کے ذریعے سرکاری فوج کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ طرابلس سےداعش اور القاعدہ کے نعرے نشر ہو رہے ہیں۔

ادھر طرابلس کے محاذ جنگ سے ملنےوالی اطلاعات کے مطابق طرابلس ملیشیا کی طرف سے العزیزیہ کے علاقے کو واپس لینے کی ناکام کوشش کی گئی۔ اس علاقے میں ملیشیا کی جانب سے سرکاری فوج پر متعدد بار حملے کیے گئے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ طرابلس میں لڑائی کے دوران تمنھنت فضائی اڈے پر ایک دہشت گرد مسلح گروپ نے قبضہ کرلیا۔
المسماری نے کہا کہ تمنھنت ایئربیس پر چاڈ کے ایک مسلح گروپ نے حسن موسیٰ نامی ایک کمانڈر کی قیادت میں وزیراعظم فائزالسراج کے حکم پرقبضہ کیا۔

خیال رہے کہ مشرقی لیبیا کے ایک فوجی عہدہ دار میجر حامد رافع الخیالی نے جنوبی شہر سبھا کے نزدیک واقع تمنہنت کے فوجی اڈے پر مسلح افراد کے حملے اور اس کے بعد لڑائی کی تصدیق کی ہے۔تاہم انھوں نے مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے اور فوری طور پر حملہ آوروں کی شناخت بھی معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

خلیفہ حفتر کے زیر کمان لیبی قومی فوج نے اس سال کے اوائل ہی میں صحرائی علاقے میں واقع اس فوجی اڈے پر قبضہ کیا تھا اور وہاں مسلح قبائلیوں کا بھی بڑا اثر ورسوخ ہے لیکن وہ اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔

لیبیا کے مشرقی علاقوں پر قابض خود ساختہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے زیر کمان لیبی قومی فوج نے 3 اپریل کو ملک کے شمال میں واقع دارالحکومت طرابلس کو مفتوح بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے تحت فورسز کے خلاف چڑھائی کر دی تھی۔ اس کے بعد سے دارالحکومت کے نواح میں لڑائی جاری ہے اور خانہ جنگی کا شکار ملک میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ طرابلس کے نواح میں گذشتہ دو ہفتے کے دوران میں متحارب ملیشیاؤں کے درمیان جاری لڑائی کے نتیجے میں 205 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں 18 عام شہری بھی شامل ہیں اور 913 افراد زخمی ہوئے ہیں۔