.

بھارتی چیف جسٹس نے خاتون معاون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام کی تردید کردی

بھارت کی عدلیہ شدید خطرے سے دوچار ہے ،ایک گہری سازش کے تحت اس کو عدم استحکام سے دوچار کیا جارہا ہے:جسٹس گوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس رانجن گوگئی نے اپنی ایک خاتون معاون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کےا لزام کی تردید کردی ہے۔جسٹس گوگئی کے گھر پر معاون کے طور پر کام کرنے والی ایک خاتون نے ان پر خود کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

بھارت کے سب سے طاقت ور جسٹس گوگئی نے ہفتے کے روز خصوصی طور پر عدالت طلب کی ہے اور اس معاملے کی خصوصی طور پر سماعت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’یہ ایک ناقابلِ یقین معاملہ ہے۔میں اس سطح تک نہیں گرسکتا کہ میں اس کی تردید ہی کروں ‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ان واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کی عدلیہ شدید خطرے سے دوچار ہے اور ایک گہری سازش کے تحت اس کو عدم استحکام سے دوچار کیا جارہا ہے۔اس عورت سے زیادہ بڑی طاقت اس سازش کے پیچھے کارفرما ہے‘‘۔ تاہم انھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

ان الزامات کا تعلق اکتوبر سے ہے لیکن ہفتے کے روز مختلف بھارتی آن لائن میڈیا نے اس خبر کو شائع کیا ہے۔الزام عاید کرنے والی 35 سالہ عورت کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔اس نے بھارت کی عدالتِ عظمیٰ کے تمام بائیس جج صاحبان کو جمعہ کو ایک خط لکھا تھا اور اس کے ساتھ ایک بیان حلفی بھی بھیجا ہے۔

اس میں چیف جسٹس پر عاید کردہ تمام الزامات کی تفصیل بیان کی ہے۔ خط میں اس خاتون نے کہا ہے کہ حکام کی جانب سے انھیں اور ان کے خاندان کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔خاتون کاکہنا ہے کہ اس کو ملازمت سے برخاست کردیا گیا ہے ،اس کے خاوند اور دیور کو بھی دہلی پولیس کی ملازمت سے معطل کردیا گیا ہے۔

اس نے کہا ہے کہ ایک اور دیور کو عدالت عظمیٰ کی نوکری سے برخاست کردیا گیا ہے۔خود اس کوw رشوت ستانی کے جھوٹے اور بے بنیاد الزام پر گرفتار کر لیا گیا اور پھر اس کی ضمانت پر رہائی ہوئی ہے۔

’’ مجھے اور میرے خاندان کو چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس راجن گوگئی کی جنسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے رضامند نہ ہونے پر انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے‘‘۔اس خاتون نے لکھا ہے۔

جسٹس گوگئی کے ساتھ اس معاملے کی خصوصی سماعت کرنے والے ایک اور جج جسٹس ارون مشرا نے اس خاتون کے الزامات کو ڈھونگ اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ عدالت نے میڈیا سے بھی کہا ہے کہ اس معاملے کی کوریج میں احتیاط کا مظاہرہ کرے اور عدلیہ کی شہرت اور آزادی کو نقصان پہنچانے سے گریز کرے۔ تاہم اس نے میڈیا پر اس کیس کی کوریج پر پابندی کے لیے کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے۔