.

سوڈان : عوامی احتجاجی تحریک کے قائدین کی حکمران فوجی قیادت سے ملاقات متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں معزول صدر عمر حسن البشیر کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک میں اہم کردار ادا کرنے والے گروپ کے ایک رہ نما کا کہنا ہے کہ ان کے قائدین کی حکمراں فوجی کونسل سے جلد بات چیت متوقع ہے۔

سوڈانی پیشہ وران تنظیم کے ایک لیڈر احمد ربیع نے ہفتے کے روز صحافیوں کو بتایا ہے کہ عمر حسن البشیر کی معزولی کے بعد ان کے قائدین کی نئے حکمرانوں کے ساتھ یہ تیسری ملاقات ہوگی۔

ربیع کا کہنا ہے کہ وہ عبوری دور کے لیے اقتدار کی ایک سول حکومت کو جلد سے جلد منتقلی کے خواہاں ہیں اور یہ حکومت کم سے کم چار سال کے لیے ملک کی باگ ڈور سنبھالے گی۔

سوڈان کی فوجی کونسل نے گذشتہ چار ماہ سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد اپریل کے اوائل میں صدر عمر حسن البشیر کو معزول کر دیا تھا اور ان کی جگہ خود عبوری دور کے لیے کاروبارِ حکومت سنبھال لیا تھا۔اس نے یہ کہا تھا کہ وہ دو سال کے لیے اقتدار میں رہے گی اور اس دوران میں عام انتخابات منعقد کرائے گی۔

لیکن مظاہرین اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ فوج میں معزول صدر عمر البشیر کے مقرر کردہ افسروں کا غلبہ ہے ۔ وہ اقتدار سے چمٹے رہیں گے یا فوجی قیادت ہی میں سے کسی ایک کو اپنا قائد چُن لیں گے اور وہ عمر البشیر کا جانشین بن جائے گا۔ان مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

تاہم فوجی کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کا کہنا ہے کہ وہ ایک مکمل سول حکومت کے قیام کے لیے پُرعزم ہیں اور کونسل کا کردار محض ملک کی خود مختاری کے تحفظ کے لیے ہوگا۔ انھوں نے ایک آزاد عدلیہ کے لیے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ وہ سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو ملک میں پُرامن انتقال اقتدار کے لیے ایک ساز گار ماحول مہیا کرنا چاہتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان عبدالرحمان نے 12 اپریل کو سوڈان کی عبوری فوجی کونسل کے نئے سربراہ کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔ انھوں نے ہفتے کے روز اپنے پہلے نشری خطاب میں کہا تھا کہ حزبِ اختلاف کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک سول حکومت قائم کی جائے گی۔انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ عبوری دور زیادہ سے زیادہ دو سال کے لیے ہوگا۔انھوں نے اپنے پیش رو وزیر داخلہ عوض بن عوف کے نافذ کردہ کرفیو کی تنسیخ کا اعلان کیا تھا اور معزول صدر کے نافذ کردہ ہنگامی حالت کے قانون کے تحت گرفتار کیے گئے تمام قیدیوں کو بھی رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔