سعودی عرب : الزلفی مرکز پر حملہ آور دہشت گرد داعش کے ارکان تھے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی اسٹیٹ سکیورٹی کی پریذیڈینسی کے ترجمان نے کہا ہے کہ اتوار کے روز دارالحکومت الریاض کے شمال میں واقع صوبے الزلفی میں تفتیش جرائم کے ایک مرکز پر حملہ آور ہونے والے چاروں دہشت گرد سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ارکان تھے۔ادارے نے سوموار کے روز ان چاروں کے مکمل نا م اور قومی شناختی کارڈ نمبر جاری کیے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق ان میں سے ایک حملہ آور نے الزلفی کے علاقے الریان میں ایک جگہ کرائے پر لے رکھی تھی اور یہ گروپ اس کو دہشت گردی کے حملے کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کرتا رہا تھا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس جگہ کے اندر تفتیش کاروں کو ایک فیکٹری نما تنصیب ملی ہے جو دھماکا خیز مواد اور خودکش جیکٹس کی تیاری کے لیے استعمال کی جارہی تھی۔ایجنسی نے وہاں سے برآمد ہونے والے ہتھیاروں اور سامان کی ایک فہرست شائع کی ہے ۔اس میں پانچ بارود سے بھری بیلٹیں ، 64 گھریلو ساختہ دستی بم ، دو کلاشنکوفیں ، چھے بندوقیں ، نامیاتی کھاد کے چار توڑے ، ٹیلی مواصلات کا ایک آلہ اور دو لیپ ٹاپ شامل ہیں۔

سعودی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ روز الریاض سے 250 کلومیٹر شمال میں واقع علاقے الزلفی میں ایک تفتیشی مرکز پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا تھا اور ان کی بروقت جوابی کارروائی میں چاروں حملہ آور دہشت گردہلاک ہوگئے تھے ۔ انھوں نے نظامتِ عامہ برائے تفتیش جرائم پر مشین گنوں ، بموں اور آتش گیر مواد سے حملے کی کوشش کی تھی۔

سخت گیر جنگجو گروپ داعش کی خبررساں ایجنسی اعماق نے ایک بیان میں اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اس نے آج ان چاروں خودکش بمباروں کی ایک ویڈیو جاری کی ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ کب فلمائی گئی تھی۔ویڈیو میں ایک شخص یہ کہہ رہا ہے کہ وہ سعودی عرب ، شام اور عراق میں مسلمانوں کو جیلوں میں ڈالنے کے ردعمل میں یہ حملہ کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں