ایرانی پارلیمان میں امریکا کی تمام مسلح افواج کو دہشت گرد قراردینے کا بل منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی پارلیمان کے ارکان نے منگل کے روز اتفاقِ رائے سے ایک بل کی منظوری دی ہے جس میں امریکا کی تمام مسلح افواج کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے۔پارلیمان نے یہ بل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے تیل کے خریدار ممالک کو حاصل استنثا ختم کرنے کے فیصلے سے ایک روز بعد منظور کیا ہے۔

ایرانی پارلیمان کے ارکان نے گذشتہ ہفتے ایسے ہی ایک اور بل کے ذریعے صرف مشرقِ اوسط میں تعینات امریکی فوجیوں کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔انھوں نے یہ اقدام امریکا کی جانب سے سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کو دہشت گرد قرار دینے کے ردعمل میں کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال مئی میں ایران سے جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کو خیرباد کہہ دیا تھا اور اس کے بعد نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان میں ایران کے توانائی کے شعبے کو بہ طور خاص ہدف بنایا گیا تھا اور اس کی تیل کی برآمدات پر پابندیاں عاید کردی تھیں ۔البتہ اس سے تیل کے خریدار ممالک کو چھے ماہ کے لیےپابندیوں میں چھوٹ دی گئی تھی۔

امریکا نے اس ماہ کے اوائل میں سپاہ پاسداران انقلاب ایران پر نئی پابندیاں عاید کی ہیں اور اس کو کسی طرح کی مادی مدد مہیا کرنا اب امریکی دائرہ اختیار میں ایک جرم قرار پائے گا۔واضح رہے کہ امریکا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس نے کسی ملک کی تمام فوج کو دہشت گرد قرار دیا ہے ۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوموار کو ایران پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے اس کی تیل کی برآمدات پر عاید پابندیوں میں دی گئی رعایت کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب مئی کے بعد اس سے تیل کے خریدار ممالک کو کسی قسم کا استثنا نہیں ملے گا اور وہ بھی ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کی صورت میں امریکی پابندیوں کی زد میں آجائیں گے۔امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن سے مشرقِ اوسط کے خطے اور اس سے ماورا عدم استحکام کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں