ترکی: الیکشن بورڈ نے مسترد شدہ ووٹروں کے بارے میں حکم کے خلاف اعتراض رد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی کے اعلیٰ انتخابی بورڈ نے صدر رجب طیب ایردوآن کی حکمراں جماعت انصاف اور ترقی پارٹی ( آق) کی جانب سے ا ستنبول میں دوبارہ انتخاب کے لیے دائر کردہ اپیل کو مسترد کردیا ہے۔آق نے 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت میں ملوّث قرار دے کر برطرف کیے گئے سرکاری ملازمین کے ووٹوں کو مسترد قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

آق نے اپنی دائر کردہ درخواست میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ سابق حکومت کے فرامین کے تحت برطرف شدہ یہ سیکڑوں ملازمین ووٹ دینے کے اہل نہیں رہے تھے ،اس لیے اس بنا پر استنبول میں منعقدہ بلدیاتی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے اور نئے سرے سے انتخابات کرائے جائیں ۔

الیکشن بورڈ نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد حزب اختلاف جمہوری عوامی پارٹی کے امیدوار اکرم امام اوغلو کو استنبول کا کامیاب میئر قرار دیا تھا۔انھوں نے حکمراں آق کے امیدوار اور سابق وزیراعظم بن علی یلدرم کو تیرہ ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔

آق کی جانب سے انتخابی بے ضابطگیوں پر استنبول کے میئر کا انتخاب کالعدم قرار دینے کے لیے دائرکردہ درخواست کے باوجود اکرم امام اوغلو نے اپنا عہدہ سنبھا ل لیا ہے۔

ترکی کے اعلیٰ انتخابی بورڈ نے آق کی اس اپیل پر ابھی اپنا کوئی فیصلہ نہیں سنایا ہے۔اس میں حکمراں جماعت نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ووٹنگ ڈیٹا کا غلط انداز میں اندراج کیا گیا تھا اور یہ ایک طرح سے منظم فراڈ تھا جس کے نتیجے میں اس کے امیدوار کو شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

انتخابی بورڈ نے 41132 ووٹروں کی حیثیت کے بارے میں بھی تحقیقات کا حکم صادر کیا ہے۔آق کے مطابق ان ووٹروں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مرچکے ہیں،نااہل تھے یا جنھوں نے دو مرتبہ ووٹ ڈالے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں