سعودی عرب میں 37 دہشت گردوں کو فنا کے گھاٹ اتار دیا گیا

انتہا پسندوں کو ’’حد الحرابہ‘‘ کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں سزائے موت دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے اعلان کے مطابق دہشت گردی کی پاداش میں مملکت کے 37 شہریوں کو منگل کے روز سزائے موت دے دی گئی۔ سزائے موت تعزیر کے تحت ’’حرابہ‘‘ کا جرم ثابت ہونے پر سنائی گئی تھی۔ مجرموں کو اپنی صفائی کا پورا فراہم کیا گیا۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’واس‘‘ کے مطابق مجرموں پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنی انتہا پسند سوچ کے فروغ کی خاطر دہشت گرد تنظیم بنا رکھی تھی تاکہ معاشرے میں افراتفری، طوائف الملوکی اور معاشرے کے امن وامان کو گزند پہنچایا جا سکے۔
وزارت داخلہ نے منگل کے روز ایک بیان جاری کیا ہے جس میں مذکورہ مجرموں کو الریاض، مکہ مکرمہ، مدینہ المنورہ، الشرقیہ، القصیم اور عسیر کے علاقوں میں دہشت گردی کے فروغ سمیت متعدد دیگر جرائم کی پاداش میں سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کی تصدیق کی گئی ہے۔
سزائے موت پانے والوں میں

1. أحمد حسن علي آل ربيع.

2. أحمد حسين علي العرادي.

3. أحمد فيصل حسن آل درويش.

4. جابر زهير جابر المرهون.

5. حسين حسن علي آل ربيع.

6. حسين علي جاسم الحميدي.

7. حسين قاسم علي العبود.

8. حسين محمد علي آل مسلم.

9. حيدر محمد إبراهيم آل ليف.

10. خالد حمود جوير الفراج.

11. خالد عبدالكريم صالح التويجري.

12. سالم عبدالله عوض العمري الحربي

13. سعيد محمد سعيد السكافي.

14. سلمان أمين سلمان آل قريش.

15. طالب مسلم سليمان الحربي.

16. طاهر مسلم سليمان الحربي.

17. عباس حجي أحمد الحسن.

18. عبدالعزيز حسن علي آل سهوي.

19. عبدالكريم محمد الحواج.

20. عبدالله سلمان صالح آل اسريح.

21. عبدالله عادل حسن العوجان.

22. عبدالله هاني عبدالله آل طريف.

23. عزيز مهدي عبدالله آل رافع العمري.

24. علي حسين علي العاشور.

25. علي حسين علي المهناء.

26. فاضل حسن عبدالكريم لباد.

27. مجتبى نادر عبدالله السويكت.

28. محمد حسين علي العاشور.

29. محمد سعيد عبدرب الرسول آل خاتم.

30. محمد عايض محمد النملان القحطاني.

31. محمد عبدالغني محمد عطية.

32. محمد منصور أحمد آل ناصر.

33. مصطفى أحمد عبداللطيف درويش.

34. منتظر علي صالح السبيتي.

35. منير عبدالله أحمد آل آدم.

36. هادي يوسف رضى آل هزيم.

37. يوسف عبدالله عوض العمري.

شامل ہیں۔ ان تمام کا تعلق سعودی عرب سے بتایا گیا ہے۔ مجرموں پر یہ بھی الزام تھا کہ انھوں نے سرکاری عمارتوں کو دھماکا خیز مواد سے تباہ کیا جس میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت متعدد بے گناہ افراد لقمہ اجل بنے۔ انھوں نے مملکت کے مفاد کے خلاف کام کرنے والے حلقوں کے ساتھ بھی تعاون کر کے بغاوت کے جرم کا ارتکاب کیا، جس کی سزا موت ہے۔

وزارت کے اعلان میں مزید کہا گیا ہے کہ مملکت اپنے شہریوں اور سرکاری مفادات کو گزند پہنچانے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھ سے نپٹے گی۔ اس ضمن میں سعودی عرب کے اندر حدود اللہ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف شریعت مطھرہ کے احکامات جاری کئے جاتے رہیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں