سعودی عرب کا ایران پر عاید پابندیوں میں استثنا ختم کرنے پر امریکی فیصلے کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ابراہیم العساف نے مئی سے ایران پر عاید پابندیوں میں تمام استثنا ختم کرنے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کو خطے میں عدم استحکام کی پالیسی سے روکنے کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔

مملکت کے سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ ابراہیم العساف نے کہا کہ ’’ سعودی عرب امریکا کے اس اقدام کی مکمل طور پر حمایت کرتا ہے کیونکہ یہ ایرانی رجیم کو خطے کے استحکام کو تہ وبالا کرنے کی پالیسی سے دستبردار کرانے اور دنیا بھر میں دہشت گردی کی حمایت سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالنےکی غرض سے ضروری تھا‘‘۔

انھوں نے گذشتہ روز وزیر توانائی خالد الفالح کے اس بیان کا اعادہ کیا ہے کہ سعودی عرب امریکا کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں توازن اور خام تیل کی وافر رسد کو یقینی بنانے کے لیے تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک کے ساتھ روابط استوار کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز ایران سے تیل کے خریدار ممالک کو پابندیوں سے مزید استثنا نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔امریکی صدر نے ان ممالک کو مئی تک ایران سے تیل خرید کرنے کی اجازت دی تھی اور انھیں گذشتہ سال نومبر میں ایران پر عاید کردہ پابندیوں سے مستثنا قرار دیا تھا لیکن اب مئی کے بعد وہ بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آجائیں گے۔

وائٹ ہاؤس نے سوموار کو ایک بیان میں کہا کہ ’’امریکا ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مارکیٹ سے ایرانی تیل کے اخراج کی صورت میں عالمی طلب کو پورا کرنے کے لیے بروقت اقدام سے اتفاق کیا ہے تاکہ عالمی مارکیٹ میں طلب کے مطابق رسد کو یقینی بنایا جاسکے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں