طرابلس: لیبیا کی فوج کی جانب سے لڑائی کے محاذوں پر بھاری کُمک منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا میں پیر کی شام مغربی علاقے سے آنے والی بھاری عسکری کمک نے دارالحکومت طرابلس پہنچ کر لڑائی کے محاذوں پر پوزیشن سنبھال لی ہے۔ یہ پیش رفت طرابلس پر کنٹرول حاصل کرنے اور اسے مسلح ملیشیاؤں سے آزاد کرانے کے لیے معرکے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کی تیاری کے سلسلے میں سامنے آئی ہے۔

لیبیا کی فوج کی جنرل کمان کے سرکاری ترجمان احمد المسماری کے مطابق مغربی عسکری علاقے کے کمانڈر میجر جنرل ادریس مادی کو ایک بڑی فورس کے ساتھ الزنتان شہر سے طرابلس فریڈم آپریشنز روم منتقل کیا جا رہا ہے جہاں وہ لڑائی کے مشن کے حوالے سے اپنی ذمے داریاں سنبھالیں گے۔

لیبیا کی جنرل کمان کے مقرب پیجز پر پوسٹ ہونے والے ایک وڈیو کلپ میں اُس فورس کو دکھایا گیا ہے جس کا ذکر المسماری نے اپنے بیان میں کیا۔ فورس میں سیکڑوں بکتر بند گاڑیاں اور بھاری اسلحہ دارالحکومت طرابلس کی جانب رواں دواں دیکھا جا سکتا ہے۔

لیبیا کی فوج کے لیے یہ عسکری سپورٹ دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ یہ لڑائی کے زیادہ گھمسان اور نئے مرحلے میں داخل ہونے کی تیاری کا حصہ ہے جس کے دوران نئے محاذ بھی کھلیں گے۔

المسماری نے پیر کے روز کہا کہ فوج آئندہ دنوں میں ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر اپنے حملوں کو بڑھا دے گی اور دارالحکومت کے قلب کی جانب پیش قدمی کے واسطے بکتر بند گاڑیوں اور بھاری توپ خانوں کا استعمال کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں