ترکی کے سابق وزیراعظم احمد داود اوگلو کی صدر ایردوآن پر شدید تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

حال ہی میں ترکی کے سابق وزیراعظم احمد داود اوگلو کا مفصل مکتوب سامنےآیا ہے جس میں انہوں نے کہیں ڈھکےچھپےاور کہیں کھل کرموجودہ صدر رجب طیب ایردوآن کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی ہے۔ سابق ترک وزیراعظم کے مکتوب کی اہمیت کےپیش نظر 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' نے بھی اس کی اشاعت کو ضروری سمجھا اور اس کے اہم اقتباسات پیش کیے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے صدر طیب ایردوآن کی خارجہ پالیسی، داخلہ پالیسیوں اور'آق' پارٹی کےامور میں مداخلت پر سخت نکتہ چینی کی۔ انہوں‌ نے سیاسی بنیادوں پر جلا وطن رہ نما فتح اللہ گولن کی کالعدم جماعت کے خلاف کریک ڈائون کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ خیال رہے کہ صدر طیب ایردوآن نے تین سال قبل ایک ناکام فوجی بغاوت کے بعد فتح اللہ گولن کی جماعت کے خلاف کریک ڈائون میں ایک لاکھ سے زاید افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس وحشیانہ کریک ڈائون پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی طرف سے بھی ترک صدر کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔

احمد دائود اوگلو نے اپنے مکتوب میں الزام عاید کیا ہےکہ رجب طیب ایردوآن سیاسی بنیادوں پر مخالفین کو انتقام کی بھینٹ چڑھا رہےہیں۔ وہ حکمراں جماعت'آق' کے فیصلوں میں مداخلت کرتے ہیں اور سیاسی مخالفین پر ملک دشمنی اور خیانت کا الزام عاید کرکے ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کراتے ہیں۔انہوں‌نے اپنے خاندان کو بھی ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بنا رکھا اور ہے۔ طیب ایردوآن کی آڑ میں ان کا خاندان بھی اختیارات کا ناجائز فایدہ اٹھا رہا ہے۔ صدر طیب ایردوآن نے اپنے داماد بیرق البیرق کو وزیرخزانہ مقرر کر رکھا ہے۔

سابق ترک وزیراعظم احمد دائود اوگلونے قریبا 13 صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی مکتوب سماجی رابطوں‌کی ویب سائیٹ 'فیس بک' پر پوسٹ کیا ہے۔ یہ مکتوب 31 مارچ کو ترکی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات اور ان کے نتائج کےتناظر میں لکھا گیا۔

وہ لکھتے ہیں کہ ترکی اس وقت تاریخ کے نازک دور سے گذررہا ہے۔ لوگوں اور معاشروں میں رابطے بڑھ رہے ہیں۔ ترکی کو بھی ان رابطوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

انہوں نے علاقائی ، قومی اورعالمی سطح‌پر جاری بحرانوں اور ان کے ترکی پر مرتب ہونےوالے اثرات کابھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں اٹھنے والے علاقائی اور عالمی بحران تاریخ کی رحم میں بچے کی پیدائش کی طرح تکلیف دہ ہیں۔ انہوں نے ترکی میں حکمران جماعت'آق' کے فیصلوں میں صدر طیب ایردوآن کی مداخلت پرتنقید کی اور کہا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت کے حوالے سے حکومت اپنی غیر جانب دار شناخت قائم نہیں کرسکی۔ ترکی میں رونما ہونےوالے بعض واقعات نے علاقائی اور عالم سیاست پر بھی اثرات مرتب کیے۔

ان کا کہنا ہےکہ ترکی میں جمہوریت کےفروغ کےحوالے سے 'آق' پارٹی کو کلیدی کردار ادا کرنا چاہیےتھا مگر جماعت کی اندرونی مشکلات اور بعض لیڈروں کی بے جامداخلت کے باعث حکمراں جماعت اپنا تزویراتی پروگرام اور ویژن مکمل نہیں‌کرسکی۔

احمد دائود اوگلو نےلکھاکہ 31 مارچ کوہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج نےآق پارٹی کے رہ نمائوں اور کارکنوں کوایک بار پھر اپنا محاسبہ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ہمیں آق پارٹی کو دوسرے یا تیسرے درجے کی نہیں بلکہ پہلی بڑی جماعت کے طورپر دیکھنا ہوگا۔

ہمیں اکتیس مارچ کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو ٹھنڈے دماغ سے سوچنا ہوگا کیونکہ یہ نتائج بہت سے ایسے پہلوئوں کی طرف اشارہ دیتے ہیں جن پر توجہ دینے اور ان کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ سابق وزیراعظم نے حکومت کی طرف سے بعض بلدیاتی کونسلوں‌پر سیاسی مخالفین کی کامیابی بعد ان کے خلاف کی جانے والی انتقامی کارروائیوں پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی اور عام انتخابات میں کامیاب ہونے والےامیدواروں کو آزادانہ طورپر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔اگرانہیں ہرطرف سے گھیرنے اور انہیں دبائو میں رکھنے اور ان کے اختیارات میں مداخلت کی کوشش کی جائے تو اس سے جمہوریت پنپ نہیں سکتی۔

احمد دائود اوگلو نے امریکامیں جلا وطن رہ نما فتح اللہ گولن کی جماعت کے خلاف کریک ڈائون پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فتح اللہ گولن کے حامیوں کی اندھا دھند گرفتاریوں‌ نے حکومت کے حوالے سےبہت سے سوالات جنم دیےہیں۔ اگر فتح اللہ گولن کی جماعت دہشت گرد ہے تو ریاست کو اس کے خلاف قانونی کارروائی کا حق ہے مگر کیا کسی ادنیٰ درجے کے ملازم کو نوکری سے فارغ کرکے اس کے بچوں کو انتقام کا نشانہ بنانے سے ہم دنیا بھر میں تنقید سے بچ جائیں گے۔ فتح اللہ گولن کی جماعت کا ایک تعلیمی نیٹ ورک ہے جو ملک میں تعلیم کے فروغ میں ریاست کا معاون رہا ہے۔ ہمارے بہت سے قریبی ساتھی ایسے ہیں جو فتح اللہ گولن کی جماعت کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔

انہوں‌نے ترکی میں سول اور جامع جمہوری آئین کی تشکیل پر زور دیا اور کہا کہ میں‌نے صدر مملکت کے سامنے بار بار اپنی تجاویز زبانی اور تحریری طورپر پیش کیں۔ میں‌نے انہیں بتایا کہ نیا نظام حکومت عوام کی امنگوں پر پورا نہیں اتر سکا ہے۔ ہمیں گڈ گورنرننس کا بہتر سے بہتر نمونہ پیش کرنا ہوگا۔

ترکی کے سابق وزیراعظم نے اپنے مکتوب میں سیاسی آزادیوں کے ساتھ ساتھ صحافت پر قدغنیں لگانے کا سلسلہ بند کرنے پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے جسے کمزور کرنے کے بجائے ہمیں مضبوط بنانا ہوگا۔

احمد دائود اوگلو نے حکومت پر زور دیا کہ وہ سول سوسائٹی اور جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو زیادہ سے سے زیادہ سہولیات کی فراہمی پر زور دیا اور تنظیموں پر پابندیوں کے منفی نتائج اور مضمرات سے خبردار کیا۔

ترکی کو درپیش معاشی بحران کے بارے میں احمد دائود اوگلو نے کہا کہ ملکی معیشت میں پیداہونے والی خرابی کے پیچھے اس حوالے سے کیے گئے بعض حکومتی فیصلے ہیں۔ حکومت سے بعض معیشت کے حوالے سے ایسے کام اور فیصلے سرزد ہوئےجنہوں‌نے ملک کو معاشی مشکلات سےدوچارکردیا۔ معاشی بحران نے عوام کا حکومت پر اعتماد کم کردیا۔اس کے ساتھ ساتھ ملک میں ایک دوسرے پر الزام تراشی نے معاملہ مزید بگاڑ دیا۔ ملک میں قانون کی بالادستی بھی سوالیہ نشان بن کر رہ گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں